انقلاب آپ کی دہلیز پر ! حکومت پر معاشی وار : بینکوں سے رقم نکال لیں

,

   

حیدرآباد۔یکم۔جنوری(سیاست نیوز) ’’ اگر عوام اس بات کو سمجھ جائیں کہ معیشت کس طرح چلتی ہے تو انقلاب منٹوں میں لایا جاسکتا ہے‘‘ فورڈ موٹر کمپنی کے بانی ہینری فورڈ کا یہ قول دور حاضر میں ہماری رہنمائی کیلئے بے انتہاء درست ہے۔ ہندوستان میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف جاری احتجاج میں ملک کی بڑی آبادی شامل ہے اور ملک کو درپیش معاشی چیالنجس سے نمٹنے میں حکومت کی ناکامی بھی واضح ہے۔ اگر ہندوستانی بینکوں میں جمع رقم نکالنا شروع کردی جائے تو حکومت پر جو دباؤ پڑے گا وہ اس دباؤ کو برداشت کرنے کے موقف میں نہیں ہے۔ مرکزی حکومت ملک میں اس سیاہ قانون کے ذریعہ مسلمانوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے اور ایسے میں ہندستان کے 25کروڑ مسلمان اور دیگر سیکولر شہریوں کی جانب سے بینکو ںمیں جمع اپنی رقومات میں سے صرف 1000تا1500 روپئے ہی نکال لئے جاتے ہیں تو ایسی صورت میںراتوں رات بینکوں میں جمع ہزاروں کروڑ کی رقم باہر آجائے گی۔ حکومت عوامی دولت کے ذریعہ ہی اپنی معاشی طاقت اور قوت کا مظاہرہ کرتی ہے۔ اگر ہندستان میں انقلاب لانا ہے تو ریالی‘ احتجاج ‘ جلسہ و جلوس کے ساتھ اگر ہندستانی عوام بینک کھاتوں میں رکھی گئی اپنی رقومات کو مکمل طور پر یا جزوی طور پر نکال لیتے ہیں تو حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہونا پڑسکتا ہے۔ اسی لئے ملک میں جاری احتجاج کے دوران ملک کی معیشت کو ہی انقلاب کا حصہ بنایا جائے تو انقلاب آپ کے در پر کھڑا ہوگا اور آپ اے ٹی ایم یا اپنے بینک کے کیاش کاؤنٹر پر اپنی ہی رقم کے ساتھ انقلاب کا استقبال کرسکتے ہیں۔ ہندستان میں این آر سی ‘ این پی آر اور سی اے اے کو روکنے کیلئے یہ انتہائی مؤثر ہتھیارثابت ہوسکتا ہے۔یہ تحریک سوشل میڈیا پر تیزی سے چلائی جارہی ہے۔
٭ تنخواہ یاب اپنی مکمل تنخواہ یکمشت نکال سکتے ہیں۔
٭ متوسط طبقہ کے افراد1000 تا 10000روپئے نکال سکتے ہیں۔
٭ غریب اپنے کھاتوں سے 1000 تا 1500روپئے کی رقم نکال کرسکتے ہیں۔
٭ متمول تاجر طبقہ بینک کھاتوں میں موجود لاکھوں روپئے میں سے ایک لاکھ روپئے تک نکال سکتے ہیں۔
٭ وظیفہ یاب بھی اپنے وظیفوں کو کھاتوں سے فوری نکالتے ہوئے احتجاج کا حصہ بن سکتے ہیں۔