انٹرنیٹ لین دینے پر وار ، کسٹمر فی الحال بچ گیا

   

2000 روپئے یو پی آئی لین دین یکم ؍اپریل سے مہنگا
نئی دہلی: نیشنل پیمنٹس کارپوریشن آف انڈیا نے اعلان کیا ہیکہ یکم ؍ اپریل سے مرچنٹ یو پی آئی (یونیفائیڈ پیمنٹس انٹرفیس) لین دین پر 1.1 فیصد تک انٹر چینج فیس عائد کی جائے گی۔ کارپوریشن نے کہا کہ یو پی آئی کے ذریعہ ٹرانزیکشن کیلئے پری پیڈ پیمنٹ انسٹرومنٹس کے استعمال پر انٹرچینج فیس عائد ہوگی۔ یہ چارجس 2000 روپئے سے زائد کے لین دین پر عائد ہوں گے۔ یہ فیس مرچنٹس کے مختلف زمروں کیلئے مختلف ہوگی۔ فی الحال کسٹمر پر یہ فیس عائد نہیں ہوگی بلکہ اس سے مختلف شعبہ جات میں0.5 سے 1.1 فیصد کی رینج میں وصول کیا جائے گا۔
UPI ٹرانزیکشن نیشنل پیمنٹ کارپوریشن آف انڈیا کی طرف سے ایک سرکلر جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ 2,000 روپے سے زیادہ کی UPI ادائیگی کرنے پر 1.1 فیصد اضافی چارج لگایا جا سکتا ہے۔ اگر آپ UPI کے ذریعے ادائیگی کرتے ہیں تو یکم ؍ اپریل سے آپ کو اس کیلئے اضافی چارجز ادا کرنے پڑ سکتے ہیں۔ نئے مالی سال سے ڈیجیٹل ادائیگیاں مہنگی ہونے جا رہی ہیں۔ نیشنل پیمنٹ کارپوریشن آف انڈیا (NPCI) نے یونیفائیڈ پیمنٹس انٹرفیس (UPI) ادائیگیوں کے حوالے سے ایک سرکلر جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ یکم ؍ اپریل سے یو پی آئی کے ذریعے کی جانے والی ادائیگیوں پر پی پی آئی چارجز لگائے جائیں گے۔رپورٹ کے مطابق UPI کے ذریعے کی جانے والی تقریباً 70 فیصد ادائیگیاں 2000 روپے سے زیادہ کی ہیں۔ واضح کریں کہ نیشنل پیمنٹ کارپوریشن (NPCI) نے مختلف علاقوں کے لیے مختلف انٹرچینج فیسیں مقرر کی ہیں۔ نئے سرکلر کے مطابق زرعی اور ٹیلی کام کے شعبوں میں سب سے کم انٹرچینج فیس وصول کی جائے گی۔ ساتھ ہی، بینک اکاؤنٹ اور پی پی آئی والیٹ کے درمیان پیئر ٹو پیر (P2P) اور Peer-to-Peer-Merchant (P2PM) میں کسی بھی قسم کے لین دین پر کوئی چارج نہیں ہوگا۔