سال اول و دوم کیلئے علحدہ کلاسیس، کوویڈ رہنما اُصولوں پر عمل کا لزوم
حیدرآباد۔ ریاست تلنگانہ میں انٹرمیڈیٹ کالجس علحدہ شفٹس میں چلائے جائیں گے اور انٹرمیڈیٹ سال اول اور سال دوم کے طلبہ کیلئے علحدہ علحدہ اوقات کار میں کلاسس کا انعقاد عمل میں لایا جائے گا۔ ریاستی حکومت کی جانب سے تعلیمی سال کے اعلان اور بورڈ آف انٹرمیڈیٹ کو باضابطہ کلاسس کے آغاز کی ہدایت جاری کئے جانے کے بعد تیار کئے گئے منصوبہ کے تحت بورڈ آف انٹرمیڈیٹ کے ذمہ داروں نے اس بات کا فیصلہ کیا ہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے موصولہ ہدایات کے مطابق طلبہ کے درمیان سماجی فاصلہ کے علاوہ کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کیلئے اختیار کئے جانے والے رہنمایانہ خطوط پر عمل آوری کے لئے لازمی ہے کہ دو علحدہ شفٹوں میں کالجس میں کلاسس کا انعقاد عمل میں لایا جائے ۔ بتایاجاتا ہے کہ بورڈ آف انٹرمیڈیٹ کے عہدیداروں کی جانب سے اس سلسلہ میں جلد احکام جاری کرتے ہوئے تمام سرکاری ‘ امدادی اور خانگی کالجس کے ذمہ داروں کو اس بات سے مطلع کیا جائے گا اور انہیں حکومت کے رہنمایانہ خطوط پر عمل آوری کے ساتھ کلاسس کے آغاز کی تاکید کی جائے گی۔ سکریٹری تلنگانہ اسٹیٹ بورڈ آف انٹرمیڈیٹ جناب عمر جلیل نے بتایا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے احکامات موصول ہونے کے بعد سے بورڈ طلبہ کے تحفظ اور کلاسس کے انعقاد کے سلسلہ میں تجاویز کی تیاری میں مصروف ہے۔ریاستی حکومت کی جانب سے یکم ستمبر سے تعلیمی سال کے آغاز کے علاوہ بورڈ آف انٹرمیڈیٹ کے طلبہ کے لئے کالجس کے آغاز کے علاوہ 30 فیصد نصاب میں تخفیف کے فیصلہ اور اب کلاسس کے انعقاد کے لئے دو علحدہ شفٹس کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے جس پر عمل آوری کی جائے گی۔ خانگی کالجس کے ذمہ داروں کا کہناہے کہ اگر دو علحدہ شفٹوں میں سال اول اور سال دوم کے طلبہ کے لئے انتظامات کئے جاتے ہیں تو ایسی صورت میں طلبہ کی تعلیم متاثر ہونے کے علاوہ کالج انتظامیہ کے مسائل میں بھی اضافہ ہوگا کیونکہ ایسی صورت میں لکچررس کی تعداد میں بھی اضافہ کرنا ہوگا اور دیگر عملہ کو بھی اضافی اوقات میں کالج میں رہنا ہوگا اسی لئے بورڈ آف انٹرمیڈیٹ کے عہدیدارو ںکو ان امور کا بھی خصوصی خیال رکھتے ہوئے اس سلسلہ میں قطعی فیصلہ کرنا چاہئے تاکہ خانگی کالجس کے ذمہ داروں کو بھی کسی طرح کے مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے اور بورڈ آف انٹرمیڈیٹ کے طلبہ کی تعلیم کے معیار پر بھی کالجس کو کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کرنا پڑے۔