لندن: انڈونیشیا کے قریب کشتی ڈوبنے سے پہلے روہنگیا لڑکیوں کیساتھ عملے کی زیادتی کی خبر موصول ہوئی ہے۔اطلاع کے مطابق اس کشتی پر 18 خواتین اور لڑکیاں بھی تھیں۔ جن میں 12 سالہ لڑکی شادی کے لیے انڈونیشیا کے راستے ملائیشیا جا رہی تھی۔ کیپٹن اور عملے کے ارکان نے شراب اور چرس کے نشے میں ان کے ساتھ زیادتی کی۔ انڈونیشیا کی پولیس نے عملے کے تین ارکان کو گرفتار کیا لیکن کیپٹن اور دوسرے افراد بیرون ملک فرار ہو گئے۔ایک 12سالہ روہنگیا لڑکی اس کشتی پر سوار تھی، جو بنگلہ دیش سے تقریباً 140 روہنگیا پناہ گزینوں کو غیر قانونی طور پر انڈونیشیا لے جا رہی تھی۔ لیکن 12 سالہ لڑکی کی منزل ملائیشیا تھی جہاں اسے ایک ایسے شخص کی بیوی بننا تھا جسے اس نے کبھی نہیں دیکھا تھا اور نہ ہی اسے یہ معلوم تھا کہ وہ کون ہے۔ یہ کشتی انڈونیشیا کے ساحل کے قریب ڈوب گئی تھی اور اس پر سوار 69 مسافر ڈوب گئے۔ زندہ بچ جانے والوں میں 12 سالہ لڑکی بھی شامل تھی۔اس کی کہانی کشتی الٹنے کے واقعہ سے بھی کہیں زیادہ دہلا دینے والی ہے کہ کشتی کے کیپٹن اور عملے کے دوسرے چند ارکان نے اسے اور تین دوسری لڑکیوں کو مسلسل زیادتی کا نشانہ بنایا۔