جکارتہ : انڈونیشیا میں 22 سال بعد پہلی مرتبہ معاشی سست رفتاری پیدا ہوئی ہے۔ کورونا وائرس کے باعث انڈونیشیا کی معیشت پر برا اثر پڑا ہے۔ حکام نے کہا کہ ملک کی پیداوار اس سال کے تیسرے حصہ میں 3.49 فیصد گر گئی جبکہ 2019ء میں اسی مدت کے دوران معاشی استحکام پایا جاتا تھا۔ 2020ء کے دوسرے حصہ میں معیشت 5.32 فیصد گر گئی تھی۔ اس سے انڈونیشیا کساد بازاری کا شکار ہوگیا۔ گذشتہ مرتبہ جنوب مشرقی ایشیاء کے سب سے بڑے معاشی ملک میں کسادی بازاری 1998ء ایشیائی مالیاتی بحران کے دوران پیدا ہوئی تھی۔ انڈونیشیائی ماہرین نے پیش قیاسی کی ہیکہ کوروناوباء کے اثرات کے باعث 3.5 ملین عوام اپنے روزگار سے محروم ہوسکتے ہیں۔ زراعت کے علاوہ انڈونیشیاء کو اپنے سیاحتی شعبہ پر انحصار ہونا پڑتا ہے لیکن عالمی سطح پر کورونا وباء کی وجہ سے سیاحوں کی آمد بھی بند ہوگئی ہے۔ عالمی سفر پر پابندیوں نے ساری دنیا میں سیاحت کے شعبہ کو تباہ کردیا ہے۔ جکارتہ میں چار ہفتوں کیلئے لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا ہے۔