برلن ۔ جرمنی بحر الکاہل کے خطے میں اپنی فوج کی سرگرمیاں ایسے وقت پر بڑھا رہا ہے جب اس کے قریب ہی یوکرین کی جنگ جاری ہے۔ برلن آسٹریلیا میں اپنے ’اہم ترین پارٹنرز‘ کے ساتھ تعاون کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یورپی سرزمین پر جاری یوکرین جنگ نے جرمنی کی وفاقی فوج بْنڈیس ویہر اور اس کی خامیوں کو واضح کر دیا ہے۔ فوج کے افسران مؤثر فوجی سازوسامان کی ڈرامائی کمی کی صورتحال سے واقف ہیں اور اس کی مذمت کرتے ہیں۔ اس کے باوجود جرمنی کی فضائیہ اس وقت ہزاروں میل دور آسٹریلیا میں ایک فوجی مشق میں حصہ لے رہی ہے۔ اِن مشقوں میں 250 جرمن فوجی حصہ لے رہے ہیں اور 6 یورو فائٹر جنگی طیارے بھی بھیجے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ شمالی آسٹریلیا میں ڈارون میں چار ٹرانسپورٹ ہوائی جہاز، تین نئے حاصل کیے گئے فضا سے فضا میں ایندھن بھرنے والے ٹینکرز اور تقریباً ایک سو ٹن کا دیگر مواد بھیجا گیا ہے۔ جرمن فضائیہ کا ڈیلیوری آپریشن یہ ثابت کرتا ہے کہ جرمنی کی ایئر فورس بھی فعال ہے اور اسے انڈو پیسیفک میں بھی فوری طور پر تعینات کیا جا سکتا ہے۔ رواں برس اگست کے وسط میں لڑاکا طیاروں اور سپلائی طیاروں کی منتقلی کے لیے سنگاپور میں اسٹاپ اوور، جسے Rapid Pacific 2022 کا نام دیا گیا، کو 24 گھنٹوں کے اندر اندر مکمل کر لیا گیا۔ فوجی اصطلاح میں، اسے اسٹریٹجک تعیناتی کی صلاحیت کہا جاتا ہے۔