نئی دہلی: بی جے پی کی فرقہ پرستی کا مقابلہ کرنے کیلئے اپوزیشن پارٹیوں کا ’’انڈیا‘‘ اتحاد قائم ہوا ،جورکاوٹوں کے باوجود آگے بڑھتا نظر آرہا ہے۔ جب بہار کے چیف منسٹر نتیش کمار کی دعوت پر جو کہ اب ایک بار پھر این ڈی اے کی صفوں میں چلے گئے ہیں، بی جے پی کو ہرانے کیلئے اپوزیشن پارٹیوں کا پٹنہ میں اجلاس منعقد ہوا تھا اور پھر اس کے بعد بنگلور اور ممبئی میں اس کے اجلاس ہوئے تو ایسا لگ رہا تھا کہ یہ اتحاد ایک بہت بڑی شکل لینے والا ہے اور اس کے ذریعہ ملک میں ایک بڑا سیاسی انقلاب رونما ہونے والا ہے لیکن رفتہ رفتہ رکاوٹیں کھڑی ہوتی گئیں اور بالآخر نتیش کمار اپنی فطرت کے مطابق اپوزیشن پارٹیوں کے ساتھ دھوکہ کرکے ایک بار پھر این ڈی اے میں چلے گئے۔ ان کے اس قدم سے اپوزیشن اتحاد کو یقیناً ایک زبردست جھٹکہ لگا۔ تاہم راہول گاندھی زیرقیادت بھارت جوڑو نیائے یاترا کے دوران اروند کجریوال کی عام آدمی پارٹی اور اکھلیش یادو سماج وادی پارٹی کے ساتھ کانگریس انتخابی مفاہمت طئے کرنے میں کامیاب ہوگئی۔ اب سب سے اہم معاملہ مغربی بنگال کا ہے جہاں ممتابنرجی کانگریس کو 42 لوک سبھا نشستوں میں سے صرف دو ہی دینا چاہتی ہیں جبکہ کانگریس مزید ایک سیٹ کیلئے اصرار کررہی ہے۔ جلد ہی بنگال میں بھی انڈیا اتحاد کے حلیفوں میں انتخابی مفاہمت ہوجانے کی توقع ہے جو بی جے پی کیلئے پریشانی کا معاملہ ہوگا۔سونیا گاندھی، ملک ارجن کھرگے، راہول گاندھی، پرینکا گاندھی کے مصالحانہ بیانات آتے رہے۔ انھوں نے جس سنجیدگی اور ذمہ دارانہ رویے کا مظاہرہ کیا اس نے حالات کو سنبھالنے میں بڑی مدد دی جس کی وجہ سے دوسری پارٹیوں کے قائدین کے بیانات کی تلخی کم ہوئی اور آخر کار دہلی، اترپردیش، ہریانہ، چنڈی گڑھ، گجرات اور گوا وغیرہ میں انڈیا اتحاد کو انتخابی مفاہمت میں کامیابی ملی ۔ کانگریس کا سماجوادی پارٹی اور عام آدمی پارٹی کے ساتھ نشستوں پر اتحاد اور مغربی بنگال اور مہاراشٹرا میں عنقریب اتحاد کے امکانات جس طرح روشن ہوئے ہیں اسے اس اتحاد کی کامیابی ہی قرار دیا جائے گا۔ اگرچہ مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی اتحاد نہ کرنے یا کانگریس کو بہت کم سیٹیں دینے کی بات کرتی رہی ہیں لیکن اب ایسی خبریں ہیں کہ وہاں جلد ہی اتحاد کا اعلان کر دیا جائے گا۔ اسی طرح اترپردیش میں بھی مخالفانہ ہواؤں کے باوجود اکھلیش یادو سے اتحاد ہو گیا۔ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ ایک ہفتے کے اندر اندر یوپی کی بعض اور جماعتیں اس اتحاد میں شامل ہو جائیں گی۔ سابق وزیر اعلیٰ اور بی ایس پی لیڈر مایاوتی بھی اتحاد میں شمولیت چاہتی ہیں لیکن وہ حکومت کی ایجنسیوں سے خائف ہیں، اسی لیے ابھی کوئی فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں نظر نہیں آتیں۔بہار میں اگر چہ نتیش کمار بی جے پی کے ساتھ چلے گئے ہیں لیکن وہاں انڈیا اتحاد اب بھی بہت مضبوط ہے۔ اس میں کانگریس اور آر جے ڈی کے علاوہ بائیں بازو کی جماعتیں بھی شامل ہیں۔