احمد آباد، 7مارچ (یو این آئی) جب ہندوستان آئی سی سی مینز ٹی20 ورلڈ کپ 2026 کے فائنل میں اتوار کو یہاں نیوزی لینڈ کے مدمقابل ہوگا، تو یہ محض کرکٹ کا ایک اور میچ نہیں ہوگا۔ اس مقابلے میں جہاں انڈیا کی نظریں فتح پر ہوں گی، وہیں نیوزی لینڈ تاریخ رقم کرنے کا خواہشمند ہوگا۔ ہندوستانی ٹیم نے انگلینڈ کے خلاف سیمی فائنل میں نہ صرف جیت حاصل کی بلکہ طوفانی بلے بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 253/7 کا ہمالیائی اسکور بنایا، جس میں سنجو سیمسن نے ایک اور بڑی اننگز کھیلی۔ انہوں نے محض 42 گیندوں پر 89 رن بنائے ، جو کہ زبردست اسٹروک پلے اور نڈر عزائم سے بھرپور تھے ۔ مڈل آرڈر میں ایشان کشن، شیوم دوبے ، ہاردک پانڈیا اور تلک ورما نے دباؤ برقرار رکھا، جس کی بدولت سیمی فائنل میں رنوں کا پہاڑ جیسا اسکور تیار ہو گیا۔ انگلینڈ نے جیکب بیتھل کی شاندار سنچری (105) کی مدد سے واپسی کی کوشش کی، لیکن ہندوستان نے آخری دم تک ہمت نہیں ہاری اور کامیابی حاصل کی۔ یہی ایک چمپئن ٹیم کی پہچان ہے ۔ نیوزی لینڈ نے پہلے سیمی فائنل میں جنوبی افریقہ کے خلاف ہدف کچھ اس طرح عبور کیا کہ ٹورنامنٹ میں تہلکہ مچا دیا۔ اسکور بورڈ پر 169رن موجود تھے ۔ فن ایلن نے کھیل کو ایک ’ہائی لائٹ ریل‘ بنا دیا۔ انہوں نے محض 33 گیندوں پر حیران کن 100 رن (ناٹ آؤٹ) بنائے یعنی پیور پاور، کلین اسٹرائیکنگ اور نڈر کرکٹ۔ ان کے ساتھ ٹم سائفرٹ نے 58 رن بنا کر کھیل کی رفتار تیز رکھی، جس کی بدولت نیوزی لینڈ نے 13ویں اوور میں 9 وکٹ باقی رکھ کر جیت حاصل کر لی۔ ہندوستان کی زبردست بیٹنگ لائن اپ، جس کی قیادت ایشان کشن کررہے ہیں جو 263 رن کے ساتھ ٹیم کے ٹاپ اسکورر ہیں، شروع میں ہی اپنی چھاپ چھوڑنے کی کوشش کریں گے ۔ دوسری جانب نیوزی لینڈ کیلئے فن ایلن کے 289رن ان کی مہم کی دھڑکن رہے ہیں، جبکہ راچن رویندر کے 11 وکٹوں نے خاموشی سے ان کے اٹیک میں توازن پیدا کر دیا ہے ۔ لیکن اعداد و شمار سے ہٹ کر کچھ اور بھی گہرا ہے،ایک طویل کہانی۔ برسوں سے آئی سی سی ٹورنامنٹس میں نیوزی لینڈ، ہندوستان کیلئے ایک مشکل رکاوٹ رہا ہے ، وہ ٹیم جو اکثر ہندوستانی خوابوں کے سامنے غلط وقت پر آئی ہے ۔ یہ ماضی کے سائے ہیں اوراتوار کو ہندوستان کو براہِ راست ٹکرانے کا موقع ملے گا۔ ایک اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ہندوستان کے کپتان سوریہ کمار یادو اور ٹیم مینجمنٹ فائنل سے پہلے کچھ بڑی تکنیکی تبدیلیاں کر سکتے ہیں۔ ایک متبادل ابھیشیک شرما کی جگہ رنکو سنگھ کو شامل کرنا ہو سکتا ہے۔ ابھیشیک نے ٹی20 کرکٹ میں جارحانہ اوپنر کے طور پر نام کمایا ہے ، لیکن جاریہ ٹورنامنٹ میں ان کی فارم خراب رہی ہے ۔ سات میچوں میں ان کے 12.71 کی اوسط سے صرف 89 رن بنے ہیں۔ تسلسل کی اسی کمی کی وجہ سے ’تھنک ٹینک‘ رنکو سنگھ کو لانے کیلئے مائل ہو سکتا ہے ، جو معروف فنیشر ہیں اور ڈیتھ اوورز میں تیزی سے رن بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ رنکو نے 45 ٹی20 انٹرنیشنل میچوں میں 39.12کی اوسط اور 155.74کے اسٹرائیک ریٹ سے 665 رن بنائے ہیں اور میچ جتوانے والے ’کیمیو‘ کیلئے ان کی رپیوٹیشن ہے جس میں آئی پی ایل میں ایک اوور میں پانچ چھکے لگانا بھی شامل ہے۔ ایک اور ممکنہ تبدیلی اسپن کے شعبے میں ہو سکتی ہے۔ ورون چکرورتی، ہندوستان کے وکٹ چارٹ میں سب سے آگے رہنے کے باوجود، ٹورنامنٹ کے آخری مراحل میں کنٹرول کیلئے جدوجہد کرتے نظر آئے ہیں اور سیمی فائنل میں انگلینڈ کے خلاف 64رن دے کر مشکل کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ اس سے کلدیپ یادو کیلئے دروازہ کھل سکتا ہے ، جن کا بین الاقوامی ٹی20 میں ریکارڈ 54 میچوں میں 6.95 کے شاندار اکنومی ریٹ کے ساتھ 95 وکٹ ہے ۔ بائیں ہاتھ کے بلے بازوں کو پریشان کرنے اور ٹرننگ کنڈیشن کا فائدہ اٹھانے کی کلدیپ کی صلاحیت احمد آباد کی پچ پر فن ایلن جیسے نیوزی لینڈ کے جارحانہ بلے بازوں کے خلاف فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے ۔ اگر ہندوستان یہ تبدیلیاں کرنے کا فیصلہ کرتا ہے ، تو اس قدم سے ٹیم میں زیادہ توازن آ سکتا ہے ، جس میں پاور ہٹنگ کے ساتھ سخت بولنگ کنٹرول کا میل ہوگا۔ نریندر مودی اسٹیڈیم کے بڑے اسٹینڈ کے نیچے ، جوش سے بھرے شائقین کی موجودگی میں، زبردست فارم میں دو ٹیمیں ٹی20 کرکٹ کے سب سے بڑے انعام کیلئے مدمقابل ہوں گی۔ میچ شام 7 بجے شروع ہوگا، جس کا لائیو ٹیلی کاسٹ اسٹار اسپورٹس نٹ ورک پر رہے گا اور جیو ہاٹ اسٹار ایپ پر لائیو اسٹریمنگ دستیاب ہوگی۔