انڈیا بلاک کی ’جمہوریت بچاؤ‘مہم

,

   

الیکشن کمیشن اور SIRکیخلاف آج سے ملک گیر احتجاج
بامبے ہائی کورٹ کی الیکشن کمیشن کو سخت پھٹکارپر کانگریس کا شدید ردعمل

نئی دہلی۔یکم ؍ اکتوبر ( ایجنسیز )اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد ’انڈیا بلاک‘ نے الیکشن کمیشن آف انڈیا اور انتخابی فہرستوں کی اسپیشل انٹینسیو ریویژن کیخلاف ملک گیر احتجاجی پروگرام کا اعلان کیا ہے۔ اتحاد نے 2 اکتوبر سے ’جمہوریت بچاؤ‘ مارچ شروع کرنے اور 6 اکتوبر کو الیکشن کمیشن کے خلاف احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔یہ فیصلہ کل نئی دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب آف انڈیا میں انڈیا بلاک کی رابطہ میٹنگ کے بعد کیا گیا۔ اجلاس میں کانگریس صدر اور راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف ملکارجن کھرگے سمیت اپوزیشن جماعتوں کے قائدین نے شرکت کی۔ ادھو ٹھاکرے اور ہیمنت سورین بھی اجلاس میں موجود تھے۔ملکارجن کھرگے کے مطابق تمام جماعتوں نے متحد ہوکر اس معاملے پر جدوجہد جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔اپوزیشن اتحاد نے انتخابی فہرستوں کی SIR کے عمل پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے جمہوری اداروں سے متعلق وسیع تر خدشات سے جوڑا ہے۔ اتحاد کے قائدین نے الیکشن کمیشن کے کردار اور انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کے طریقہ کار پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔انڈیا بلاک کی جانب سے اعلان کردہ احتجاجی پروگرام کو اپوزیشن جماعتوں کے درمیان مشترکہ سیاسی حکمت عملی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔دوسری طرف گیانیش کمار کے سیاہ کارنامے لگاتار سامنے آ رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن کو عدالت کی پھٹکار پر کانگریس نے تلخ تبصرہکیا ہے۔ایس آئی آر سے متعلق ایک معاملہ میں بامبے ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کو سخت پھٹکار لگائی ہے۔ یہ خبر کئی اخبارات میں شائع ہوئی ہے، جن میں سے ایک خبر کا تراشہ کانگریس نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر شیئر کیا اور کہا ہے کہ سطح در سطح گیانیش کمار کے سیاہ کارنامے سامنے آ رہے ہیں۔ساتھ ہی اپوزیشن پارٹی نے ایک بار پھر چیف الیکشن کمشنر کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے۔سوشل میڈیا پوسٹ میں کانگریس نے سب سے پہلے بامبے ہائی کورٹ کا ایک تبصرہ پیش کیا ہے جس میں عدالت نے الیکشن کمیشن کی خوب پھٹکار لگائی ہے۔ بامبے ہائی کورٹ نے سخت رخ اختیار کرتے ہوئے الیکشن کمیشن سے کہا کہ سارے قانون بھول جاؤ اور صرف سافٹ ویئر کے پیچھے بھاگو۔کانگریس نے مطلع کیا ہے کہ الیکشن کمیشن نے ایس آئی آر کی دھاندلی سے گوا میں گڑبڑی کی تھی جس کے خلاف لوگ ہائی کورٹ پہنچے، وہیں الیکشن کمیشن کو عدالت سے یہ پھٹکار لگی۔کانگریس نے بتایا کہ عرضی پر سماعت کے دوران عدالت نے الیکشن کمیشن سے کہا کہ ایس آئی آر نے حقیقی معنوں میں پورے سسٹم کو سسپنڈ کر دیا ہے اور کہتا ہے کہ سارے قوانین کو بھول جاؤ اور صرف سافٹ ویئر کو مانو لیکن ایسا بالکل نہیں چل سکتا۔ ساتھ ہی عدالت نے کہا کہ ہمیں قانون دکھائیں کہ بغیر سماعت کے نام ہٹانے کا اختیار الیکشن کمیشن کو کس نے دیا؟ بامبے ہائی کورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ کوئی بھی ووٹر نہ چھوٹے لیکن 6 لوگ عدالت پہنچ گئے ہیں اور معلوم نہیں مزید کتنے ہیں جو عدالت نہیں پہنچ سکے۔کانگریس نے اپنی پوسٹ میں بتایا ہے کہ یہ معاملہ گوا کے ایک ہی خاندان کے 6 لوگوں کے نام ووٹر لسٹ سے کاٹنے سے جڑا تھا جبکہ انھوں نے اپنا پتہ بدلنے کی جانکاری فارم۔8 بھر کر الیکشن کمیشن کو دی تھی۔ کانگریس کے مطابق جب یہ معاملہ عدالت پہنچا تو الیکشن کمیشن کو واضح لفظوں میں کہا گیا کہ ای آر او کے پاس سافٹ ویئر کی مکمل رسائی ہونی چاہیے تاکہ وہ اس میں جانکاری ڈال یا ہٹا سکیں۔ یہ رسائی کسی تیسرے شخص کے پاس نہیں ہو سکتی۔اس پورے معاملہ کو سامنے رکھنے کے بعد کانگریس نے حملہ آور رخ اختیار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ صاف ہے، مودی کے حکم پر گیانیش کمار ’ووٹ چوری‘ کو انجام دے رہے ہیں اور اب سطح در سطح ان کے سیاہ کارنامے سامنے آ رہے ہیں۔ ساتھ ہی پارٹی نے مطالبہ کیا کہ ’’گیانیش کمار کو فوراً عہدہ سے ہٹانا چاہیے اور ان کی گرفتاری ہونی چاہیے۔