نئی دہلی،28اگسٹ(سیاست ڈاٹ کام) ریٹنگ ایجنسی‘ انڈیا ریٹنگ اینڈ ریسرچ’ نے معیشت میں مندی کے چھائے رہنے کا اندیشہ ظاہر کرتے ہوئے رواں مالی سال میں ملک کی شرحِ ترقی 6.7 فیصد ہی رہنے کا اندازہ لگایا ہے ۔ فِٹج گروپ کی کمپنی نے اس سے قبل رواں برس کی شرحِ ترقی 7.3 فیصدرہنے کا اندازہ پیش کیا ہے ۔ایجنسی کے سربراہ ماہر معیشت اور ڈائریکٹر سنیل سنہا نے بدھ کے روز یہاں پریس کانفرنس میں بتایا کہ شرحِ ترقی میں یہ کمی بنیادی طور پر گاہکوں کی مانگ گھٹنے اور بے ہنگم مانسون کی بارش کی وجہ سے ہوئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گھریلو بچت کی شرح (ڈومیسٹک سیونگ ریٹ) گھٹنے ، پرائیویٹ کارپوریٹ سرمایہ کاری کم ہونے اور سرکاری خرچ کم ہوتے جانے جیسے وجوہات بھی شرحِ ترقی کے گھٹنے کا سبب رہے ہیں۔ مسٹرسنہا نے کہا کہ مختلف وجوہات کی وجہ سے عوام کی آمدنی بھی نہیں بڑھ رہی ہے جس کی وجہ سے گاہک اشیاء کی مانگ میں کمی آتی گئی اور اس کا اثر صنعتی پیداوار پر بھی پڑ رہا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ حال ہی میں مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن کے معیشت کو مہمیز دینے کے لیے اعلان کیے گئے منصوبوں کا کوئی خاص اثر مرتب ہونے کی امید نہیں ہے ۔ ان منصوبوں سے معیشت پر کچھ فوری اثر تو دکھائی دے گا لیکن طویل مدتی اثر رہنے کا امکان کم ہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ بینکوں کے غیرفعال اثاثے (نان پرفارمنگ اسیٹس)بھی لمبے عرصے سے باعثِ تشویش بنی ہوئی ہے ۔ بینکوں کو پونجی دینے سے وہ قرض دینے کی حالت میں تو آجائیں گے لیکن پھر قرض وصولی ایک مسئلہ بنارہے گا۔غور طلب ہے کہ روزگار کے مواقع گھٹنے ، گاہک اشیاء کی مانگ میں کمی، صنعتی پیداوار کم ہونے اور کارخانوں وغیرہ سے عوام کو نوکریوں سے نکالا جانا حکومت کے لیے تشویش کا باعث بنا ہوا ہے ۔