انڈیا لاکھوں افراد کیلئے زندگی مشکل بنا رہا ہے: کینیڈین وزیراعظم

   

ٹورنٹو : کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کا کہنا ہے کہ ’کینیڈین سفارت کاروں کے خلاف انڈین حکومت کا کریک ڈاؤن دونوں ممالک کے لاکھوں افراد کے لیے معمول کی زندگی کو مشکل بنا رہا ہے۔‘برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق جسٹن ٹروڈو کا یہ بیان کینیڈا کی جانب سے اپنے 41 سفارت کاروں کو انڈیا سے واپس بلانے کے بعد سامنے آیا ہے۔کینیڈا نے انڈیا کی جانب سے یک طرفہ طور پر ان سفارت کاروں کی حیثیت کو منسوخ کرنے کی دھمکی دی تھی جس کے بعد کینیڈین حکومت نے اپنے ان 41 سفارت کاروں کو واپس بلا لیا۔ انڈین حکومت کی جانب سے سفارتی استثنیٰ ختم کیے جانے کے بعد کینیڈین وزیر خارجہ میلانی جولی نے سفارت کاروں کو واپس اپنے ملک بلانے کی تصدیق کی تھی۔کینیڈا کی وزیر خارجہ میلانی جولی نے جمعرات کو بتایا کہ ’انڈیا میں موجود 62 میں سے 41 سفارت کاروں اور ان کے اہلِ خانہ کو واپس بلا لیا گیا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’کینیڈا کے 21 سفارت کار انڈیا میں ہی قیام کریں گے۔ سفارتی استثنیٰ ختم کیے جانے اور ملک چھوڑنے کی ڈیڈلائن کے بعد ہمارے سفارت کاروں کو خطرات لاحق تھے۔‘یاد رہے کہ انڈیا اس بات پر ناراض ہے کہ جسٹس ٹروڈو نے گذشتہ ماہ یہ الزام لگایا تھا کہ ’کینیڈا میں رواں برس جون میں سکھ علیحدگی پسند رہنما ہردیپ سنگھ نِجر کے قتل میں انڈین ایجنٹ ملوث ہو سکتے ہیں۔