l آٹومیٹک ایکسچینج آف انفارمیشن کے تحت پہلی بار ڈیٹا کا حصول
l عوام کیلئے ناموں اور دیگر شناخت کے افشاء سے انکار
l سخت رازداری برتی جائے گی ۔ اگلا جز و2020ء میں ملے گا
نئی دہلی ؍ برن ۔ 7 اکتوبر ۔(سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان کو سوئس بینکوں میں اپنے شہریوں کے کھاتے کی تفصیلات کا پہلا حصہ نئے خودکار تبادلۂ معلومات سے متعلق قانون کے تحت حاصل ہوگیا ہے جو بیرون ملک جمع شدہ کالے دھن کے خلاف حکومت کی لڑائی میں بڑا سنگ میل ہے ۔ ہندوستان 75 ممالک میں سے ہے جن کے پاس سوئٹزرلینڈ کے فیڈرل ٹیکس ایڈمنسٹریشن (ایف ٹی اے ) نے گلوبل اسٹانڈرڈس برائے اے ای او آئی (آٹومیٹک ایکسچینج آف انفارمیشن) کے فریم ورک کے اندرون مالی کھاتوں کے بارے میں معلومات کا تبادلہ کیا ہے ، ایف ٹی اے ترجمان نے نیوز ایجنسی پی ٹی آئی کو یہ بات بتائی ۔ انھوں نے کہاکہ اگلا تبادلہ سپٹمبر 2020 ء میں ہوگا ۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ ہندوستان کو سوئس حکام کی طرف سے اے ای او ائی فریم ورک کے تحت تفصیلات حاصل ہوئی ہیں ۔ یہ فریم ورک مالی کھاتوں کے بارے میں معلومات کے تبادلہ کی گنجائش فراہم کرتا ہے ، جو موجودہ طورپر چالو ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ وہ کھاتوں کی تفصیلات کا بھی احاطہ ہوتا ہے جو 2018 ء کے دوران بند کردیئے گئے ۔ 2018 ء ہی وہ سال ہے جس میں یہ فریم ورک اگریمنٹ نافذالعمل ہوا تاہم جو معلومات کا تبادلہ ہوتا ہے وہ سخت رازداری والے فقروں کے تحت آتا ہے اور ایف ٹی اے عہدیداروں نے کھاتوں کی تعداد یا مالی اثاثہ جات کی مقدار کے تعلق سے مخصوص نوعیت کی تفصیلات کے افشاء سے انکار کیا ہے۔ یہ تمام کھاتے اور اثاثے اُن کے ہیں جو سوئس بینکوں کے ہندوستانی کلائنٹس ہیں ۔ تاہم اے ای او آئی صرف اُن کھاتوں سے تعلق رکھتا ہے جو سرکاری طورپر ہندوستانیوں کے نام پر ہیں اور اُن میں ایسے کھاتے ہوسکتے ہیں جنھیں بزنس یا دیگر واجبی مقاصد کے لئے استعمال کیا گیا ۔ مجموعی طورپر ایف ٹی اے نے لگ بھگ 3.1 ملین مالی کھاتوں کے بارے میں معلومات بھیجی ہے اور یہ تمام مواد پارٹنر مملکتوں کو ارسال کیا گیا اور اُن سے تقریباً 2.4 ملین کے بارے میں معلومات وصول ہوئی ہیں ۔ تبادلہ شدہ تفصیلات میں شناخت ، اکاؤنٹ اور اقتصادی معلومات شامل ہیں ۔ ان میں نام ، پتہ ، رہائش گاہ کی ریاست اور ٹیکس کا شناختی نمبر کے ساتھ ساتھ اقتصادی ادارے ، اکاؤنٹ بیلنس اور اصل سرمایہ پر آمدنی سے متعلق معلومات بھی شامل ہیں۔ اس سے ہٹ کر سوئس حکومت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اُن ملکوں کی تعداد جن کے ساتھ اے ای او آئی رواں سال طئے پایا وہ 75 ہے جن میں سے 63 ممالک جوابی طورپر معلومات کا تبادلہ کرتے ہیں ۔ 12 ملکوں کے معاملے میں سوئٹزرلینڈ کو معلومات وصول ہوئی لیکن اُنھیں بعض مخصوص نوعیت کا ڈیٹا بھی فراہم کیا گیا ۔ ایف ٹی اے کی جانب سے تقریباً 7,500 اداروں سے ڈیٹا جمع کیا گیا ہے جن میں بینکس ، ٹرسٹ اور انشورنس کمپنیاں شامل ہیں۔