انڈین آرمی چیف کا بیان نیپال کی توہین ہے : وزیردفاع

   

کٹھمنڈو ۔26 مئی ۔( سیاست ڈاٹ کام ) نیپال کے وزیردفاع نے اپنے ملک کے حوالے سے ہندوستانی آرمی چیف کے بیان کو نیپال کی توہین قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کے بیانات نیپال کی تاریخ کو نظرانداز کر کے ہی دیئے جاسکتے ہیں۔ایک ایسے وقت جب ہندوستان اور نیپال کے درمیان سرحدی تنازع کے حوالے سے تعلقات کشیدہ ہیں، نیپال نے ہندوستانی آرمی چیف منوج مکند ناروانے کے بیان پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک فوجی سربراہ کو سیاسی نوعیت کے بیانات سے گریز کرنا چاہیے۔ نیپالی وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ ہندوستانی آرمی چیف نے نیپال کی توہین کی ہے۔ بعض میڈیا اداروں کے مطابق نیپال کے وزیر دفاع ایشور پوکھریال نے ایک مقامی اخبار سے بات چیت کرتے ہوئے فوجی سربراہ کے بیان پر سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بیان سے نیپالی نژاد ہندوستان کے گورکھا فوجیوں کے جذبات کو بھی ٹھیس پہنچی ہے۔ انہوں نے کہاکہ یہ بیان نیپال کے لیے انتہائی توہین آمیز ہے۔ یہ بیان نیپال کی تاریخ، اس کی معاشرتی خصوصیات اور آزادی کو نظرانداز کر کے توہین کرنے کے لیے ہے۔ اس سے، ہندوستانی آرمی چیف نے نیپال کے ان گورکھا فوجیوں کے احساسات کو بھی ٹھیس پہنچائی ہے، جنہوں نے ہندوستان کی حفاظت کیلئے اپنی جانیں قربان کی ہیں۔ اوراب ہندوستانی جنرل کیلئے گورکھا فوجیوں کے سامنے سر اونچا کر کے کھڑا ہونا بھی آسان نہیں ہوگا۔نیپالی وزیر دفاع نے یہ باتیں مقامی اخبار ’دی رائزنگ نیپال‘ سے بات چیت کے دوران کہیں۔ ہندوستانی آرمی چیف جنرل منوج مکند ناروانے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ نئے راستے کی تعمیر کے حوالے سے نیپال ’’ کسی دوسرے کے کہنے پر‘‘ اعتراضات کر رہا ہے۔ ہندوستانی فوجی سربراہ کا اشارہ واضح طور پر چین کی طرف تھا۔ نیپال کا کہنا ہے کہ اس طرح کا بیان نیپال کی خودمختاری پر سوال اٹھانے کے مترادف ہے۔ ہندوستان نے پہاڑی ریاست اترا کھنڈ میں نیپال اور چین کی سرحدسے متصل متنازعہ علاقے میں اسّی کلو میٹر طویل ایک نئی سڑک تعمیر کی ہے۔