انڈین بنک شادنگر کو 5 کروڑ روپئے کی دھوکہ دہی ، شوہر بیوی گرفتار

   

جعلی دستاویزات کے ذریعہ بنک لون کے حصول پر پولیس کی کارروائی ، ملزمین پر دیگر کیسوں کے درج ہونے کا بھی انکشاف

شادنگر ۔ انڈین بینک شادنگر برانچ سے جعلی دستاویزات و دھوکہ دہی کے ذریعہ 5 کروڑ 3 لاکھ روپیوں کا لون حاصل کرنے والے شوہر بیوی کو شادنگر پولیس نے گرفتار کرلیا ۔ اس ضمن میں اے سی پی شادنگر سریندر نے شادنگر پولیس اسٹیشن میں منعقدہ پریس کانفرنس سے مخاطب کرتے ہوئے تفصیلات سے واقف کرواتے ہوئے بتایا کہ پی پربھکر اور ان کی زوجہ سریتا ساکن پورگل حال مقیم آدتیہ ولاس ٹولی چوکی نزد حکیم پیٹ حیدرآباد سے دونوں ملکر شادنگر میں واقع انڈین بینک بطور ہاوزنگ لون 5 کروڑ 3 لاکھ روپئے حاصل کئے ۔ بنک لون کے حصول کیلئے سال 2014 میں اس وقت انڈین بنک شادنگر منیجر ڈی سدرشن تھے ۔ بنک منیجر ڈی سدرشن کے ساتھ ملکر سازباز کرتے ہوئے پی پربھاکر نے لون کے حصول کیلئے درخواست داخل کی ۔ بنک منیجر ڈی سدرشن اور پی پربھاکر کے درمیان آپس میں کافی گہرے تعلق تھے ۔ پی پربھاکر کی جانب سے لون کیلئے داخل کئی گئی درخواست کو بنک منیجر ڈی سدرشن نے منظور کردی ۔ جون 2017 میں بنک منیجر ڈی سدرشن کا کسی دوسرے برانچ میں ٹرانسفر ہوگیا ۔ انہوں نے مزید بتاتے ہوئے کہا کہ پی پربھاکر کی جانب سے لون کے حصول کیلئے داخل کئے گئے بعض کاغذات جعلی تھے ۔ جیسا کہ آدھار کارڈ ، سرکاری محکمہ کام کرنے کے پے سلپ جبکہ لون کے حصول کیلئے ایک پرساری ڈیولپرس کے نام سے قریب 20 افراد کے ناموں کو شامل کرتے ہوئے جعلی دستاویزات داخل کئے جبکہ لون کیلئے جائیداد کے مارکٹ ویلو سے بہت زیادہ مارکٹ ویلو بناکر لون کیلئے داخل کیاگیا ۔ لون کی منظورہ رقم پرساری ڈیولپرس پر جاری ہوئے ۔ انڈین بنک شادنگر برانچ سے حاصل کردہ لون رقم کی قسط کی عدم ادائیگی پر بنک کے ذریعہ نوٹس جاری کی گئی ۔ اس کے باوجود لون حاصل کرنے والوں کے پاس سے کوئی جواب نہیں آیا ۔ بلکہ عہدیداروں کی جانب سے داخل کئے گئے پتہ پر تحقیقات پر پتہ چلاکہ مذکورہ نام والے کوئی فرد نہیں جس پر سرکاری محکمہ کا حوالہ دیا گیا وہاں پر بھی جاکر پتہ کرنے پر کوئی تصدیق نہیں ہوسکی ۔ آخر کار انڈین بنک عہدیداروں کو واضح ہوا کہ لون حاصل کرنے والے جعلی دستاویزات داخل کرتے ہوئے بنک کو دھوکہ دیا ۔ بعد ازاں انڈین بنک کے اعلی عہدیداروں نے مذکورہ واقعہ کو سی بی آئی میں درخواست دیتے ہوئے سی بی آئی کے ذریعہ تحقیقات و انکوائری کروائی 2016 میں موجود ڈی سدرشن کو انڈین بنک کے اعلی عہدیداروں نے قصوروار تصور کرتے ہوئے بنک خدمات سے معطل کردیا ۔ سی بی آئی تحقیقات اور بنک کی جانب سے معطل کرنے سے دلبرداشتہ ہوکر ڈی سدرشین 2019 میں موت واقع ہوگئی ۔ بعد ازاں انڈین بنک کے اعلی عہدیداروں نے شادنگر بنک کے منیجر مہیندر کو ہدایت دی کہ لوکل پولیس اسٹیشن میں شکایت کریں ۔ انڈین بنک شادنگر برانچ منیجر مہیندر نے شادنگر پولیس میں شکایت درج کروانے کے ساتھ ہی شادنگر پولیس تحقیقات میں مصروف ہوتے ہی حقائق کا پتہ لگاتے ہوئے جعلی دستاویزات اور دھوکہ دہی کے ذریعہ لون حاصل کرنے والے پی پربھاکر اور ان کی زوجہ سریتا کو کل رات آدتیہ ولاس ٹولی چوکی ، حکیم پیٹ حیدرآباس سے کل رات گرفتار کرلیا ۔ گرفتاری کے دوران آدتیہ ولاس کے مالکین پولیس کی کارروائی میں مداخلت کر رہے تھے ۔ پربھاکر اور سریتا کو گرفتار کرنے میں رکاوٹ پیدا کر رہے تھے ۔ اس دوران شادنگر پولیس اور آدتیہ ولاس کے مالکین کے درمیان لفظی بحث و تکرار ہوئی ۔ آخرکار شادنگر پولیس عہدیداروں نے گولکنڈہ پولیس میں شکایت کرتے ہوئے گولکنڈہ پولیس کے تعاون سے پی پربھاکر اور سریتا دونوں کو گرفتار کرلیا ۔ پولیس کارروائی میں مداخلت کرنے والے آدتیہ ولاس مالکین کے خلاف گولکنڈہ پولیس میں کیس درج رجسٹر کیا گیا ۔ جعلی دستاویزات کے ذریعہ بنکوں سے لون حاصل کرنے والے پربھاکر کے خلاف سائبرآباد کے مختلف پولیس اسٹیشنوں میں جملہ 6 کیس درج ہیں ۔ ایک اندازے کے مطابق پربھاکر نے ابھی تک 22 تا 25 کروڑ روپیوں کا لون جعلی دستاویزات کے ذریعہ حاصل کیا ہے ۔ اس موقع پر سی آئی سریدھر کمار ، ایس آئیز وینکٹیش ، وجئے بھاسکر اور دیگر پولیس عہدیدار موجود تھے ۔