ٹی آر ایس، کانگریس اور بی جے پی کے دفاتر پر قومی پرچم کشائی، قائدین کا خطاب
حیدرآباد 17 ستمبر (پی ٹی آئی) تلنگانہ میں حکمراں ٹی آر ایس، اپوزیشن کانگریس، بی جے پی، تلگودیشم اور دیگر جماعتوں نے سابق ریاست حیدرآباد کے انڈین یونین میں انضمام کا آج 71 واں سالانہ جشن منایا۔ واضح رہے کہ 17 ستمبر 1948 ء کو آصفجاہی حیدرآباد ریاست کا انڈین یونین میں انضمام عمل میں آیا تھا۔ ان سیاسی جماعتوں نے اپنے دفاتر پر قومی پرچم لہرایا اور انضمام کے لئے جدوجہد کرنے والوں کے جذبہ بہادری اور قربانیوں کو خراج عقیدت ادا کیا۔ ٹی آر ایس کے کارگذار صدر کے ٹی راما راؤ نے اپنی پارٹی کے دفتر تلنگانہ بھون پر قومی ترنگا لہرایا۔ مرکزی وزیر پارلیمانی اُمور پرہلاد جوشی نے حیدرآباد میں بی جے پی کے صدر دفتر پر منعقدہ تقریب میں حصہ لیا۔ اس تقریب میں مملکتی وزیرداخلہ جی کشن ریڈی، بی جے پی کے ریاستی صدر کے لکشمن اور دیگر قائدین بھی موجود تھے۔ پرہلاد جوشی نے یوم آزادی حیدرآباد تقاریب کا سرکاری سطح پر اہتمام نہ کئے جانے پر ٹی آر ایس حکومت کی مذمت کی اور اس کو انتہائی شرمناک حرکت قرار دیا اور الزام عائد کیاکہ حکمراں جماعت کی ووٹ بینک سیاست اور ایم آئی ایم کے اثر و رسوخ کے سبب ایسا (سرکاری اہتمام) نہیں کیا گیا۔ کانگریس کے صدر این اتم کمار ریڈی نیگاندھی بھون پرترنگا لہرایا اورکہاکہ کانگریس اور بائیں بازو کی جماعتوں نے ہی سابق ریاست حیدرآباد کے انڈین یونین میں انضمام کے لئے جدوجہد کی تھی۔ اتم کمار ریڈی نے کہاکہ یہ امر انتہائی مضحکہ خیز ہے کہ بی جے پی کے ایک لیڈر رام مادھو جن کا تعلق آندھراپردیش سے ہے، اس حقیقت کے باوجود آزادی حیدرآباد کی باتیں کررہے ہیں کہ 1948 ء میں بی جے پی کا کوئی وجود بھی نہیں تھا۔ کانگریس نے کہاکہ بی جے پی یا سنگھ پریوار کا نہ تو جدوجہد آزادی میں کوئی رول تھا اور نہ ہی ریاست حیدرآباد کے انڈین یونین میں انضمام یا پھر ریاست تلنگانہ ریاست کے قیام میں اس کا کوئی رول رہا جس کے باوجود بی جے پی قائدین یوم انضمام حیدرآباد کو ایک مسئلہ بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔