دہلی کے ماہرین کی خدمات کا حصول، بعد پوسٹ مارٹم نعشیں ورثاء کے حوالے کی جائیں
حیدرآباد۔/21ڈسمبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ نے دشا قتل کے ملزمین کی نعشوں کا دوبارہ پوسٹ مارٹم کرنے کی ہدایت دی ہے۔ عدالت نے آج اس معاملہ کی سماعت کی اور دوبارہ پوسٹ مارٹم اور اس کی مکمل ویڈیو گرافی کرنے کی ہدایت دی۔ یہ پوسٹ مارٹم پیر کی شام تک مکمل کرنے کی بھی واضح ہدایت دی گئی۔ دوبارہ پوسٹ مارٹم کے بعد پولیس کی نگرانی میں نعشوں کو افراد خاندان کے حوالے کیا جائے گا۔ عدالت نے کہا کہ کلکشن آف ایویڈنس ( شواہد کا ریکارڈ ) مہر بند لفافہ میں ہائی کورٹ کو پیش کیا جائے گا۔ گاندھی ہاسپٹل کے سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر شراونی نے ہائی کورٹ میں پیش ہوتے ہوئے ملزمین کی نعشوں کی صورتحال سے واقف کرایا۔ انہوں نے کہا کہ نعشیں 50 فیصد تک مسخ ہوچکی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ منفی 2 تا منفی 4 ڈگری درجہ حرارت کے تحت نعشوں کو فریزر میں محفوظ کیا گیا ہے۔ اگر انہیں فریزر میں رکھا گیا تو ایک ہفتہ میں یہ صد فیصد مسخ ہوجائیں گے۔ عدالت نے سوال کیا کہ ملک کے کسی اور ہاسپٹل میں نعشوں کو محفوظ کرنے کی سہولت موجود ہے۔ جس پر ڈاکٹر شراونی نے لاعلمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے اندیشہ ظاہر کیا کہ آئندہ پانچ چھ دنوں میں صد فیصد مسخ ہوجائیں گی۔ انہوں نے بتایا کہ 9 ڈسمبر کو یہ نعشیں گاندھی ہاسپٹل منتقل کی گئیں۔ پہلے پوسٹ مارٹم کی ڈاکٹرس رپورٹ کی تفصیلات ایڈوکیٹ جنرل نے ہائی کورٹ کو پیش کی۔ ہائی کورٹ نے 23 ڈسمبر کی شام 5 بجے تک دوبارہ پوسٹ مارٹم مکمل کرنے کی ہدایت دی۔ عدالت نے کہا کہ دہلی کے ایمس فارنسک ماہرین کی نگرانی میں یہ پوسٹ مارٹم کیا جائے اور نعشوں کو افراد خاندان کے حوالے کیا جائے۔عدالت نے انکاؤنٹر کی تحقیقات کرنے والی خصوصی تحقیقاتی ٹیم کو ہدایت دی کہ انکاونٹر میں استعمال کئے گئے ہتھیاروں کو تحویل میں لیتے ہوئے اسے سی اے ایس ایس ایل کو روانہ کیا جائے۔ واضح رہے کہ دشا قتل کے چاروں ملزمین کو پولیس نے 6 ڈسمبر کو مبینہ انکاؤنٹر میں ہلاک کردیا تھا۔ یہ معاملہ سپریم کورٹ سے رجوع ہوا جس پر سپریم کورٹ نے ریٹائرڈ جج کی نگرانی میں تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی اور انسانی حقوق کمیشن اور تلنگانہ ہائی کورٹ کی کارروائیوں پر روک لگادی۔