رہنمایانہ خطوط کی تیاری، بی آر ایس حکومت میں غیرزرعی اراضی کو دیئے گئے فنڈس واپس طلب کرنے پر غور
حیدرآباد۔/11جولائی، ( سیاست نیوز) ریاستی حکومت نے کسانوں کے قرض معاف کرنے کے وعدے کو عملی جامہ پہنانے کے اقدامات کو تیز کردیا ہے۔ انکم ٹیکس ادا کرنے والوں ، سیاسی قائدین اور سرکاری ملازمین کو اس اسکیم سے استثنیٰ دینے کے امکانات ہیں۔ اس کے علاوہ بی آر ایس دور حکومت میں غیر زرعی اراضیات کو دیئے گئے ریتو بندھو اسکیم کی رقومات واپس طلب کرنے پر بھی غور و خوض کیا جارہا ہے۔ انکم ٹیکس ادا کرنے والے کسانوں اور چھوٹے ملازمین کے قرض معاف کرنے کا منصوبہ ہے۔ اس سلسلہ میں محکمہ زراعت کی جانب سے رہنمایانہ خطوط تیار کرتے ہوئے چیف منسٹر کے دفتر کو روانہ کردیئے گئے ہیں۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ محکمہ زراعت کے اعلیٰ عہدیداروں نے اس رپورٹ میں مختلف تجاویز کو شامل کیا ہے۔ ریاست میں کتنے لوگ انکم ٹیکس ادا کررہے ہیں ؟ کون ٹیکس ادا کرے بغیر آئی ٹی ریٹرن فائیل کررہا ہے۔ مرکز کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے رپورٹ منگوائی گئی ہے۔ اسی رپورٹ کو محکمہ زراعت نے حکومت کو پیش کردیا ہے۔ مرکزی حکومت کی جانب سے عمل کی جانے والی پی ایم کسان اسکیم میں بھی انکم ٹیکس ادا کرنے والوں اور سیاسی قائدین کو استثنیٰ دیا گیا ہے۔ اُصولی طور پر یہ اتفاق کیا گیا ہے۔ زیادہ آمدنی رکھتے ہوئے ٹیکس ادا کرنے والوں کے قرض معاف نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی چند کسانوں کی جانب سے مکان کی تعمیر اور بچوں کی تعلیم کیلئے قرض حاصل کرنے والے کسان انکم ٹیکس ادا کررہے ہیں ایسے کسانوں کے بھی قرض معاف کرنے کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ سیاسی قائدین جو مختلف عہدوں پر موجود ہیں ان کے قرض معاف کرنے کا امکان نہیں ہے۔ بہت جلد قرض معافی اسکیم پر عمل آوری کے رہنمایانہ خطوط جاری کرنے اور اس پر اسمبلی کے بجٹ سیشن میں موضوع بحث بنانے کا قوی امکان ہے۔15 جولائی تک اس اسکیم پر عوامی رائے ہموار کی جارہی ہے جس کے بعد کلکٹرس حکومت کو رپورٹ پیش کریں گے۔ بی آر یس دور حکومت میں غیر زرعی اراضیات ، تالابوں، پہاڑوں اور بنجر اراضیات کو بھی ریتو بندھو اسکیم سے فائدہ پہنچایا گیا ۔ جن لوگوں نے فائدہ اٹھایا ہے ان سے رقومات واپس طلب کرنے کے بھی امکانات کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ بہت جلد کلکٹرس کو احکامات جاری کئے جائیں گے اور کلکٹرس اسکیم سے فائدہ اٹھانے والوں کو نوٹس جاری کریں گے۔2