انکم ٹیکس کی شرح میں 10 لاکھ تک کی چھوٹ کا امکان

   

شخصی انکم ٹیکس کی شرح کو تبدیل کرنے حکومت کی تجویز
حیدرآباد۔25اکٹوبر(سیاست نیوز) حکومت کی جانب سے شخصی انکم ٹیکس کی شرح میں تبدیلی لانے کی حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے اور کہا جا رہاہے کہ حکومت عام شہریوں کو راحت فراہم کرتے ہوئے ملک کی معیشت کو مستحکم بنانے کی سمت اہم پیشرفت کو یقینی بناسکتی ہے۔ مجوزہ بجٹ اجلاس کے دوران حکومت ہند کی جانب سے شخصی انکم ٹیکس کی شرح کے علاوہ حد میں تبدیلی لائے جانے کے امکانات کا جائزہ لئے جانے کی اطلاعات ہیں ۔ گذشتہ چند ماہ کے دوران مرکزی حکومت کی جانب سے ملک کی معیشت میں استحکام پیدا کرنے کیلئے متعدد اقدامات کئے تھے جن میں کارپوریٹ ٹیکس کی شرح تبدیل کرتے ہوئے 22فیصد کردی گئی تھی اور اب اس بات پر غور کیا جا رہا ہے کہ انکم ٹیکس کی شرح میں تبدیلی لاتے ہوئے 10لاکھ تک کی چھوٹ فراہم کی جائے اور 10لاکھ سے زائد آمدنی والے گروپس کو 30 فیصد کے زمرہ میں شامل کیا جائے تاکہ انکم ٹیکس دہندگان کی بڑی تعداد کو فائدہ حاصل ہو اور 10لاکھ سے زائد ٹیکس ادا کرنے والوں سے ٹیکس وصول کیا جاسکے ۔ بتایاجاتا ہے کہ محکمہ فینانس کی جانب سے معاشی عدم استحکام کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے کئے جانے والے اقدامات کے تحت حکومت جو پالیسی تیار کررہی ہے اس کے مطابق یہ راحت شخصی انکم ٹیکس دہندگان کو ہی فراہم کی جائے گی تاکہ شہریوں کو راحت حاصل ہواور ان کی آمدنی میں اضافہ ریکارڈ کیا جاسکے۔ مرکزی حکومت نے بیرونی راست سرمایہ کاری کے قوانین میں بھی ترمیم کے ذریعہ معیشت کو مستحکم بنانے کی کوشش کی تھی اور حکومت کی اس کوشش سے بیرونی راست سرمایہ کاری میں کچھ اضافہ ریکارڈ کیا گیا لیکن اس کے مثبت نتائج کیلئے مزید راحت کی ضرورت ہے اسی لئے فروری میں مجوزہ بجٹ کے دوران انکم ٹیکس قوانین میں ترمیم کے ذریعہ انکم ٹیکس دہندگان کو بڑی راحت پہنچائے جانے کا امکان ہے۔ محکمہ فینانس کی جانب سے اس منصوبہ کے سلسلہ میں تاحال کوئی توثیق نہیں ہوئی ہے لیکن یہ کہا جا رہاہے کہ حکومت کی جانب سے معیشت کے استحکام کے سلسلہ میں اصلاحات پر غور کیا جا رہاہے اور شخصی انکم ٹیکس دہندگان کو راحت کی صورت میں حالات کے تبدیل ہونے کے امکانات ہیں ۔حکومت کی جانب سے معاشی اصلاحات میں سب سے زیادہ توجہ ملک کے سرکاری اور عوامی شعبہ کے بینکو ںمیں سرمایہ کاری کو فروغ دیتے ہوئے انہیں مستحکم بنانے کی کوشش کرنا ہے جس کے سبب ملک کی معیشت میں نمایاں تبدیلی کے امکانات ظاہر کئے جارہے ہیں۔