انکیتا بھنڈاری قتل کیس میں ایس آئی ٹی کی تشکیل

   

Ferty9 Clinic

رانچی ۔ 5 جنوری ۔ (ایجنسیز ) اُتراکھنڈ میں انکیتا بھنڈاری قتل کیس کی تحقیقات کیلئے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے۔ اس ٹیم کو حالیہ منظر عام پر آنے والے آڈیو کلپ سے جڑے تمام پہلوؤں کی باریک بینی سے جانچ کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق سابق رکن اسمبلی سریش راٹھور اور اداکارہ ارمیلا سناور اس وقت تفتیشی ایجنسیوں کی گرفت سے باہر ہیں۔ آڈیو کلپ سامنے آنے کے بعد دونوں لاپتہ بتائے جا رہے ہیں اور اس کلپ کو انکیتا بھنڈاری کے قتل سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے۔اس معاملے میں شرومنی گرو رویداس وشوا مہاپیت کے صدر دھرمیندر کمار نے بہادرآباد پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کروائی ہے۔ درخواست میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ مذکورہ افراد نے ایک سیاسی رہنما کی شبیہ خراب کرنے کی کوشش کی ہے۔ہریدوار پولیس نے معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے خصوصی تحقیقاتی ٹیم قائم کی ہے۔ پولیس کے سامنے پیش نہ ہونے پر اداکارہ ارمیلا سناور کے خلاف ناقابلِ ضمانت وارنٹ بھی جاری کر دیا گیا ہے۔سینئر پولیس ذرائع کے مطابق دونوں افراد کا سراغ لگانے کیلئے متعدد پولیس ٹیمیں مختلف ریاستوں میں روانہ کر دی گئی ہیں تاکہ انہیں جلد از جلد تفتیش کے دائرے میں لایا جاسکے۔ دوسری جانب اُتراکھنڈ بی جے پی کے صدر مہندر بھٹ نے اپوزیشن کی جانب سے کیے جانے والے احتجاج کو سیاسی محرک قرار دیا اور کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کا انکیتا بھنڈاری کو انصاف دلانے سے کوئی حقیقی تعلق نہیں۔
مہندر بھٹ کے مطابق کانگریس اس حساس معاملے کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج کے دوران سیاسی جھنڈے لہرانا آنے والے انتخابات سے قبل اپوزیشن کے عزائم کو ظاہر کرتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ریاستی حکومت نے اس کیس میں پوری سنجیدگی کے ساتھ کارروائی کی ہے اور ملزمان کو سزا دلانے کیلئے تمام قانونی اقدامات کیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اپوزیشن کو کسی کوتاہی کا شبہ ہے تو وہ عدالت سے رجوع کرے، سڑکوں پر افراتفری پھیلانا ماحول خراب کرنے کے مترادف ہے۔واضح رہے کہ 19 سالہ انکیتا بھنڈاری رشی کیش کے قریب پوڑی ضلع کے گنگا بھوگپور علاقے میں واقع ونانترا ریزارٹ میں ریسپشنسٹ کے طور پر کام کرتی تھی۔انکیتا کو مبینہ طور پر چیلا نہر میں دھکیل کر قتل کیا گیا۔