لندن : انگلینڈ میں کورونا وائرس کی دوسری لہر کے بعد سخت پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں جن کی خلاف ورزی پر 13 ہزار ڈالر تک کا جرمانہ ادا کرنا پڑے گا۔خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق جو برطانوی شہری وائرس کے پھیلاؤ کی روک تھام میں تعاون نہ کرتے ہوئے خود کو الگ تھلگ نہیں رکھیں گے ان پر 13 ہزار ڈالر کا جرمانہ عائد کیا جائے گا۔برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے کہا ہے کہ وائرس کی دوسری لہر کے بعد انگلینڈ میں نئی پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں۔نئی پابندیوں کے مطابق 28 ستمبر سے کورونا سے متاثرہ ہر شخص کی قانونی ذمہ داری ہوگی کہ وہ خود کو دیگر افراد سے الگ تھلگ رکھے۔ جبکہ مختلف گھرانوں سے تعلق رکھنے والے صرف چھ افراد اکھٹے ہو سکیں گے جس کا اطلاق رواں ہفتے سے کر دیا گیا ہے۔بورس جانسن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے وائرس سے نمٹنے کا واحد طریقہ یہی ہے کہ تمام شہری اصولوں کی پابندی کریں اور وائرس سے متاثرہ افراد خود کو آئسولیشن میں رکھیں۔بیان میں متنبہ کیا گیا ہے کہ نئی پابندیوں کو نظر انداز نہ کیا جائے اور وائرس پھیلانے کے خدشے کی صورت خود کو آئسولیٹ کرنا قانونی ذمہ داری ہے۔بیان کے مطابق اگر برطانوی قوم ادارہ صحت ’این ایچ ایس‘ کی جانب سے کسی بھی فرد کو آئسولیشن میں رہنے کی ہدایت کی گئی ہے تو ایسا کرنا اس کی قانونی ذمہ داری ہوگی، خلاف ورزی کی صورت میں جرمانہ ادا کرنا پرے گا۔برطانیہ میں کورونا کا ٹیسٹ مثبت آنے یا وائرس کی علامات ہونے کی صوورت میں 10 دن کے لیے ا?ئسولیشن میں رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ جبکہ کسی متاثرہ شخص کے ساتھ رہنے والے فرد کے لیے لازمی ہے کہ وہ خود کو 14 دنوں کے لیے آئسولیٹ کرے۔
