انگلینڈ کی 2011 کے بعد آسٹریلیامیںپہلی کامیابی

   

Ferty9 Clinic

ملبورن، 27 دسمبر (آئی اے این ایس) انگلینڈ نے تقریباً 15 سالہ انتظارکا خاتمہ کرتے ہوئے چوتھے ایشز ٹسٹ میں شاندار فتح حاصل کی اور ملبورن کرکٹ گراؤنڈ میں کھیلے گئے باکسنگ ڈے مقابلے میں میزبان آسٹریلیا کو چار وکٹوں سے شکست دے دی۔ اگرچہ ایشز سیریز انگلینڈ کی دسترس سے باہر رہی، تاہم بین اسٹوکس کی قیادت میں ٹیم نے زبردست کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دوسرے ہی دن 32.2 اوورز میں میچ اپنے نام کر لیا۔ یہ ٹسٹ میچ محض دو دن میں ختم ہوا، جہاں پچ فاسٹ بولروں کے لیے نہایت مددگار ثابت ہوئی اور پورے میچ میں ایک بھی اوور اسپنر نے نہیں کیا۔ انگلینڈ نے گھاس سے ڈھکی ہوئی تیز پچ پر پہلے بولنگ کا فیصلہ کیا جو فوری طور پر سودمند ثابت ہوا۔ جوش ٹنگ نے پانچ وکٹیں حاصل کیں اور آسٹریلیا پہلی اننگز میں 152 رنز پر ڈھیر ہوگیا۔ تاہم میزبان ٹیم نے جواب میں انگلینڈ کو 110 رنز پر آؤٹ کرکے 42 رنز کی برتری حاصل کی۔ مائیکل نیسر نے چار جبکہ اسکاٹ بولینڈ نے تین وکٹیں حاصل کیں۔ پہلے دن کے اختتام پر ٹریوس ہیڈ اور نائٹ واچ مین بولینڈ کی شراکت کی بدولت آسٹریلیا مضبوط پوزیشن میں دکھائی دے رہا تھا۔ دوسرے دن کھیل کے آغاز پر آسٹریلیا کو برتری حاصل تھی، لیکن جلد ہی حالات بدل گئے۔ ٹریوس ہیڈ46 رنز بناکر خطرناک دکھائی دے رہے تھے کہ برائیڈن کارس نے انہیں بولڈ کردیا، جس کے بعد وکٹوں کی قطار لگ گئی۔ آسٹریلیا 132 رنز پر آؤٹ ہوگیا، جبکہ کارگزار کپتان اسٹیو اسمتھ 24 رنزکے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے۔ انگلینڈ کو کامیابی کے لیے 175 رنز کا ہدف ملا۔ جواب میں انگلینڈ نے جارحانہ انداز اپنایا۔ بین ڈکٹ اور زیک کرالی نے محدود اوورزکے میچ کی طرح بیٹنگ کی۔ ڈکٹ 26 گیندوں پر 34 رنز بنا کر مچل اسٹارک کی شاندار یارکر پر آؤٹ ہوئے، جبکہ کرالی نے تیز رفتار 37 رنز بنائے۔ اگرچہ آسٹریلیا نے مختصر وقفے میں جو روٹ اور بین اسٹوکس کی وکٹیں حاصل کر کے مقابلہ میں واپسی کی کوشش کی۔ جیکب بیتھل کے پْرسکون 40 رنز اور ہیری بروک کے ناٹ آؤٹ 18 رنز نے ٹیم کو آسانی سے ہدف تک پہنچا دیا۔ انگلینڈ کی آسٹریلیا میں آخری ٹسٹ فتح جنوری 2011 میں سڈنی کرکٹ گراؤنڈ پر ہوئی تھی۔ یہ جو روٹ کی آسٹریلیا میں 18 میچوں کے بعد پہلی ٹسٹ کامیابی ہے، جبکہ بین اسٹوکس نے بھی 13 میچوں کے بعد پہلی کامیابی حاصل کی۔ سیریز کا پانچواں اور آخری ٹسٹ 4 جنوری کو سڈنی میں کھیلا جائے گا۔ اس جیت کے ساتھ انگلینڈ نے وقار بحال کیا، کیونکہ اسے اس سے قبل پرتھ، برسبین اور ایڈیلیڈ میں کھیلے گئے ابتدائی تین میچوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔