پونے ۔ نیدرلینڈز کے آل راؤنڈر کپتان ڈی لیڈ اور انگلینڈ چمپیئنز ٹرافی میں جگہ بنانے کے لیے بڑے مواقع کی تلاش میں ہیں لیکن کل یہاں ہونے والے مقابلے میں سارا دباؤ جوس بٹلر کی ٹیم پر ہوگا کیونکہ 2019 کے چمپینس نے ایک مایوس کن ورلڈ کپ کا سامنا کیا ہے، سات مقابلوں کے بعد دفاعی چمپئن انگلینڈ10 ویں نمبر پر ہے، واحد کامیابی بنگلہ دیش کے خلاف حاصل ہوئی جبکہ دوسری جانب نیدرلینڈز جنوبی افریقہ کے مشہور اپ سیٹ کے ساتھ توقعات میں اضافہ کرچکے ہیں۔ وہ چہارشنبہ کو پونے میں اگلے 50 اوورکے ٹورنمنٹ کے لیے کوالیفائی کرنے کی دہلیز پر ہے ۔چمپئنز ٹرافی میں رسائی حاصل کرنا ولندیزیوں کے لیے ایک شاندار کامیابی ہوگی اور کپتان ڈی لیڈ جو ڈرہم کے لیے کھیلتے ہیں،ان کا خیال ہے کہ اگر انگلینڈ اپنی صورتحال کے تناؤ کا شکار ہوجاتا ہے تو وہ ان کی گرفت میں ہے۔ کپتان نے مزید کہا ہے کہ ایک خطاب کا دفاع کرنے والی ٹیم کے طور پر آپ پر فوری طور پر بہت زیادہ دباؤ ہوتا ہے، خاص طور پر جب آپ اچھی شروعات نہیں کرتے اور مجھے یقین ہے کہ اب اس اس کھیل میں ان پر مزید دباؤ بنائیں گے ۔ ہمارے لیے چمپئنز ٹرافی میں جگہ کے لیے کھیلنا اعزازکی بات ہے، ان کے لیے یہ امید ہے کہ کم ازکم سرفہرست 8 ٹیموں میں جگہ حاصل کریں۔ یہ ایک بہت بڑا موقع ہے۔یقیناً انگلینڈ ایک خطرناک ٹیم ہے، ان کے پاس بیٹنگ اور بولنگ کے شعبوں میں ایسا معیار ہے، لیکن اس مہم میں دو جیت ہمارے لیے بہت اچھی ہے اور ہم محسوس کرتے ہیں کہ ایک گروپ کے طور پر ہمارے لیے بہت کچھ ہے۔ اس کا ثبوت جنوبی افریقہ کے میچ کے مظاہرے ہیں۔ یہ دیکھنا کہ ہم جو مشق کر رہے ہیں اس طرح کی ٹیم کے خلاف اترنا بہت اچھا تھا اور ایک ٹیم کے طور پر ہمیں بہت زیادہ اعتماد ملا۔ ڈی لیڈ ایک ایسے نظام کے خلاف ضرب لگانے کا موقع بھی قبول کر رہے ہیں جو اکثر ان لوگوں کو کاٹ دیتا ہے جن کے پاس آئی سی سی کی سطح پر مکمل رکن کا درجہ نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ اگر ہم مپئنز ٹرافی کے لیے کوالیفائی کر لیتے ہیں تو یہ بہترین ٹیموں کے خلاف مزید سات میچز کھیلنے کا موقع فراہم کرے گا اور ہم قومی ٹیم کے طور پر کیسے ترقی کرتے رہیں ، یہ دیکھنا ہمارے ہاتھ میں ہے۔ ہمیں ایسا محسوس ہوا جیسے ہم یہاں ایک بڑا داخلہ حاصل کر رہے ہیں لہذا یہ داخلہ بہت بڑا ہوگا کارنامہ ہوگا۔