سابق صدر نشین وقف بورڈ محمد مسیح اللہ کے الزامات بے بنیاد ، محمد عظمت اللہ حسینی موجودہ چیرمین بورڈ کی پریس کانفرنس
حیدرآباد۔12جولائی(سیاست نیوز) چیر مین تلنگانہ وقف بورڈ محمد عظمت اللہ حسینی نے انیس الغرباء کے حوالے سے بی آر ایس پارٹی لیڈر اور وقف بورڈ کے سابق چیرمین محمد مسیح اللہ خان کے بیانات کو بے بنیاد او رمن گھڑت قراردیا اور کہاکہ دس سال اقتدار میںرہنے کے بعد اپنا وجود خطرے میں ہونے کے احساس کے ساتھ بی آر ایس کے اقلیتی قائدین بیانات دے رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ تین مسائل پر بی آر ایس پارٹی کے اقلیتی قائدین کے وفد نے ان سے ایک روز قبل نمائندگی کی جس میں پہلا مسئلہ انیس الغرباء کی عمارت کو ٹی ایم آر ای آئی ایس کے حوالے کرنے پر مشتمل ہے ۔ عظمت اللہ حسینی نے کہاکہ ہم نے اسی وقت واضح کردیا کہ انیس الغرباء سے متعلق فیصلہ بی آر ایس کے دور اقتدار میں مسیح اللہ خان کی صدارت میںمنعقدہ وقف بورڈ کے اجلاس میںلیاگیاتھا۔عظمت اللہ حسینی نے مزیدکہاکہ اس وقت کے وقف بورڈ کے اہم ممبران کی موجودگی میںیہ فیصلہ لیاگیاتھا جس پر آج عمل کیاجارہا ہے۔ عظمت اللہ حسینی نے شواہد پیش کرتے ہوئے کہاکہ 27-09-2023کو مسیح اللہ خان کی صدارت میں منعقدہ بورڈ میٹنگ میںایجنڈہ نمبر56کے تحت5روپئے فی اسکوئر فٹ کے حساب سے ایک لاکھ 45ہزار اسکوئر فٹ یعنی ساری عمارت کو ٹی ایم آر ای آئی ایس کے حوالے کرنے کی قرارداد کو منظوری دیکر سابق کی ( بی آر ایس )حکومت کو روانہ کیاگیاتھا۔انہوں نے مزیدکہاکہ قبرستان کی اراضی سنی ‘ شیعہ ‘ مہدویہ اور بوہیرہ کمیونٹیوں کے لئے جاری کی گئی ہے۔انہوں نے کہاکہ 07-08-2023کو یہ جی او جاری کیاگیا ۔ انہوں نے کہاکہ میرے بحیثیت چیرمین جائزہ لینے کے ایک ماہ کے اندر میں نے آر اینڈ بی محکمے کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے مذکورہ جاری اراضیات پر کمپاونڈ وال کی تعمیر پر مشتمل تخمینہ طلب کیاتھا ۔ انہوں نے کہاکہ سابقہ اقلیتی سکریٹری عمر جلیل کے ساتھ اس خصوص میں میٹنگ کے دوران اس بات کا انکشاف ہوا کہ سروے نمبر 472متکل گائوں‘ میڑچل ‘ ملکاجگیری میں اراضی عدالتی چارہ جوئی کا شکار ہے ۔ انہوں نے بی آر ایس اقلیتی قائدین سے سوال کیاکہ اگر مذکورہ اراضی جاری کرتے ہوئے وقف بورڈ کو الاٹ کردی گئی تھی تو پھر عدالتی مقدمات کیسے آئے؟۔انہوں نے کہاکہ اس کے باوجود ہم اس پر کام کررہے ہیں اورعدالتی معاملات ختم ہونے کے بعد ہم قبرستانوں کے لئے جاری اراضیات کی تقسیم کا عمل بھی پورا کرلیں گے۔ انہوں نے بی آر ایس پارٹی پر انتخابات سے عین قبل مسلمانوں کو قبرستانوں کے لئے اراضی کا چاکلیٹ دینے کا الزام لگایا۔انہوں نے کہاکہ سستی شہرت حاصل کرنے کیلئے بے بنیاد الزامات سے باز رہنے کا بھی انہوں نے بی آر ایس قائدین کو مشورہ دیا۔عظمت اللہ حسینی نے کہاکہ ہم دنیا اور آخرت دونوں مقاما ت پر جوابدہی کے خوف کے ساتھ یہاں پر بیٹھ کر کام کررہے ہیں۔