ممبئی: ممبئی کی ایک خصوصی پی ایم ایل اے عدالت نے ہفتہ کو مہاراشٹر کے سابق وزیر داخلہ انیل دیشمکھ کو 14 دن کی عدالتی حراست میں بھیجنے کا حکم دیا ہے ۔انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے تحقیقات کا حوالہ دیتے ہوئے دیشمکھ کی حراست میں مزید نو دن کی توسیع کی درخواست کی تھی، جسے عدالت نے مسترد کر دیا۔ ایجنسی مسٹر دیشمکھ کے خلاف منی لانڈرنگ کیس کی جانچ کر رہی ہے ۔ سنٹرل بیورو آف انوسٹی گیشن (سی بی آئی) نے اس سال اپریل میں اس وقت کے وزیر داخلہ انل دیشمکھ کے خلاف بدعنوانی اور رشوت ستانی کے الزام میں ایف آئی آر درج کی تھی، جس کی بنیاد پر ای ڈی اس معاملے کی جانچ کر رہی ہے ۔
مسٹر دیش مکھ کو 2 نومبر کو ممبئی کی چھٹی عدالت نے اس معاملے میں 6 نومبر تک ای ڈی کی حراست میں بھیج دیا تھا۔ ای ڈی نے مسٹر دیش مکھ کے خلاف ممبئی کے سابق پولیس کمشنر پرم بیر سنگھ کی طرف سے لگائے گئے رشوت کے الزامات پر مقدمہ درج کیا تھا۔ مقدمہ درج ہونے کے بعد انہیں وزیر داخلہ کے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا تھا۔پرم بیر سنگھ نے مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے کو خط لکھ کر الزام لگایا کہ اس وقت کے وزیر داخلہ انل دیشمکھ نے اسسٹنٹ انسپکٹر سچن واجے کے ذریعے دسمبر 2020 سے فروری 2021 کے درمیان کئی آرکسٹرا اور بار مالکان سے تقریباً 4.7 کروڑ روپے کی رقم وصول کی۔ای ڈی نے 2 نومبر کو عدالت میں دعویٰ کیا تھا کہ مسٹر دیش مکھ منی لانڈرنگ کیس میں براہ راست ملوث تھے ۔ ای ڈی نے شریک ملزم واجے سمیت دو اور پولیس اہلکاروں کے بیانات ریکارڈ کیے ہیں۔ایڈیشنل سالیسٹر جنرل انیل سنگھ اور اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر ہیتن وینیگاوکر نے عدالت کو بتایا کہ مسٹر دیشمکھ نے دہلی کی پیپر کمپنیوں کی مدد سے یہ رقم اپنے تعلیمی ٹرسٹ سری سائی سکھشن سنستھا کو عطیہ کے طور پر دلائی تھی۔
