حیدرآباد: اورنگ آباد کے نام کی تبدیلی میں کوئی رکاوٹ پیدا نہیں ہوگی اور اورنگ آباد کے نام کو تبدیل کرتے ہوئے سامبھاجی نگر کردیا جائے گا۔ شیو سینا قائد سنجے راوت نے یہ بات کہتے ہوئے کہا کہ اورنگ آباد میونسپل کارپوریشن کی جانب سے اورنگ آباد کے نام کو تبدیل کرنے کے سلسلہ میں قرارداد منظور کرتے ہوئے ریاستی حکومت کو روانہ کردی گئی ہے اور مہاراشٹرا میں موجود کانگریس ‘ شیوسینا اور این سی پی اتحادی حکومت کی جانب سے اس قرار داد کے مطابق اورنگ آباد کے نام کو تبدیل کرنے کے سلسلہ میں جلد فیصلہ کیا جائے گا۔ سابق چیف منسٹر مہاراشٹرا و سینیئر کانگریس قائد مسٹر اشوک راؤ چوان نے واضح کیا کہ کانگریس کسی بھی شہر کے نام کی تبدیلی کے حق میں نہیں ہے اور وہ نہیں چاہتی کہ کوئی شہر کا نام تبدیل کیا جائے اوراب ریاستی حکومت کی جانب سے ایسا کرنے کا فیصلہ ممکن نہیں ہے کیونکہ ریاست میں صرف ایک سیاسی جماعت کی حکومت نہیں ہے بلکہ شیوسینا کے زیر قیادت اس حکومت میں کانگریس اور این سی پی بھی شامل ہیں۔ سنجے راوت نے بتایا کہ ان کے خیال میں اورنگ آباد کے نام کی تبدیلی کا مسئلہ اب حل ہوجائے گا اور حکومت مہاراشٹرا معاملہ کو ختم کرنے کے لئے اورنگ آباد کا نام تبدیل کرتے ہوئے اسے سامبھاجی نگر کے نام سے موسوم کرنے کی تجویز کو منظوری دے دی گی۔ اورنگ آباد کا نام مغل بادشاہ اورنگ زیب کے نام سے رکھا گیا ہے اور اب شیو سینا کی جانب سے جو منصوبہ تیار کیا گیا ہے اور اورنگ آباد میونسپل کارپوریشن کی جانب سے قرارد اد منظوری کی گئی ہے اس کے مطابق اب اس تاریخی شہر کو چھترپتی شیواجی کے فرزند چھترپتی سامبھا جی کے نام سے موسوم کرنے کو منظوری دی گئی ہے اور کافی عرصہ سے یہ مطالبہ کیا جا رہاہے ۔ کانگریس نے واضح کردیا ہے کہ ان کی پارٹی خواہ اتحاد میں شامل ہو یا نہ ہوان کی جانب سے کسی بھی شہر کے نام کی تبدیلی کی حمایت نہیں کی جائے گی اور اورنگ آباد کے نام کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں اس کی کانگریس کی جانب سے مخالفت کی جائے گی علاوہ ازیں شیو سینا کو اس بات کا بھی یقین ہونا چاہئے کہ این سی پی کی جانب سے بھی اس فیصلہ کی مخالفت کی جائے گی ۔ سنجے راوت نے کہا کہ ریاستی حکومت میں کوئی اختلافات نہیں ہیں اور اورنگ آباد کا مسئلہ کارپوریشن کی قرارداد کو منظوری دینے کی حد تک ہے اسی لئے انہیں ایسا لگتا ہے کہ ریاستی حکومت یہ فیصلہ جلد کرے گی۔