اور اب ووٹ جہاد کا نعرہ !!

   

شہر وفا جو کل تھا، مقتل بنا ہوا ہے
خوشبو کی سرزمیں پر کیا گل کھلا ہوا ہے
وزیر اعظم نریندر مودی دس سال کے اقتدار کے بعد بھی عوام سے مثبت ووٹ مانگنے کو تیار نہیں ہیں یا پھر وہ ایسا کرنے کے موقف ہی میں نہیں ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ کانگریس کا منفی ووٹ حاصل کرنے پر ہی توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ پہلے مرحلہ کی رائے دہی کی تکمیل کے بعد سے ہی انتخابی مہم کو فرقہ وارانہ خطوط پر چلانے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ انہوں نے ملک کے عوام کو ایک دوسرے سے خوفزدہ کرنے اور ڈرانے کی حکمت عملی اختیار کی ہوئی ہے ۔ نریندر مودی انتخابی مہم میں اپنے جذبات اور زبان کو قابو میں نہیں رکھ پا رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ راجستھان سے شروع ہوئی فرقہ وارانہ منافرت کا سلسلہ اب ملک کے کئی شہروں میں بھی پھیل رہا ہے ۔ انہوں نے ہر شہر میں عوام میں خلیج پیدا کرنے اور دوریاں بڑھانے کی کوشش کی ہے ۔ سماج کے ایک طبقہ کو دوسرے سے مرعوب کرنے یا خوفزدہ کرنے کی کوشش ہی کی ہے ۔ کہیں کہا گیا کہ کانگریس مرکز میں برسر اقتدار آجائے تو خواتین کے منگل سوتر چھین لے گی ۔ کہیں کہا گیا کہ ملک کے اثاثہ جات مسلمانوں میں تقسیم کردئے جائیں گے ۔ کہیں کہا گیا کہ کانگریس رام مندر پر بابری تالا ڈالنا چاہتی ہے ۔ کہیں کہا گیا کہ مندر کو ڈھا دیا جائیگا یا پھر سپریم کورٹ کے فیصلے کو تبدیل کردیا جائیگا ۔ یہ سارا کچھ محض اپنے سیاسی فائدے کیلئے کیا گیا تاکہ ہندو برادری کے ووٹ مجتمع کرتے ہوئے ان پر قبضہ کیا جاسکے ۔ نریندر مودی یا پھر بی جے پی حکومت اپنی دس سالہ کارکردگی کی بنیاد پر عوام سے ووٹ مانگے کے موقف میں نہیںہیں۔ انہوں نے گذشتہ دس برس میں ایسے کوئی کارہائے نمایاں انجام نہیںدئے ہیں جن کی بنیاد پر عوام سے ووٹ مانگا جاسکے ۔ ملک کو جو مسائل دس سال قبل درپیش تھے آج بھی برقرار ہیں بلکہ ان میں کئی مساء کا اضافہ بھی ہوا ہے ۔ حکومت ملک کو درپیش مسائل کو حل کرنے اور ان کی یکسوئی پر توجہ دینے کی بجائے ان مسائل سے منہ موڑتے ہوئے عوام کو اختلافی اور نزاعی مسائل میں الجھانے کا حکمت عملی پر کام کر رہی ہے اور ان کے مذہبی جذبات کا استحصال کرتے ہوئے خود سیاسی فائدہ اور مرکز کا اقتدار چاہتی ہے ۔
اب نریندر مودی نے اترپردیش میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ایک بار پھر اپنی بیمار اور منفی سوچ کا ثبوت پیش کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس اور سماجوادی پارٹی چاہتے ہیں کہ عوام کے ووٹ سے مرکز میں اقتدار حاصل کیا جائے اور عوامی دولت کا کچھ حصہ ان جماعتوں کیلئے ’’ ووٹ جہاد ‘‘ کرنے والوں میں تقسیم کردیا جائے ۔ جس طرح سے مودی حکومت اور بی جے پی نے گذشتہ دس برسوں میں اپنے چند مٹھی بھر حاشیہ بردار کارپوریٹس میں ملک کی دولت تقسیم کردی ہے اس کا مودی کو جواب دینا چاہئے ۔ اس پر عوام میں جو شبہات پیدا ہوئے ہیں ان کو دور کرنا چاہئے ۔ ایسا کرنے کی بجائے مخالفین پر منفی سوچ کے ساتھ تنقید کرنا اور عوام کے بڑے طبقات کے مابین خلیج اور نفرت کو ہوا دینا انتہائی افسوسناک ہے ۔ کانگریس ملک پر 55 برس تک حکومت کرچکی ہے ۔ اس نے کبھی بھی کسی کے اثاثہ جات چھین کر کسی اور میں تقسیم نہیں کئے ہیں اور نہ ہی کبھی ایک فرقہ پر کسی دوسرے فرقہ کو ترجیح دی ہے ۔ جہاں تک ووٹ کی بات ہے تو جو لوگ ووٹ ڈالتے ہیں وہ اپنا فریضہ ادا کرتے ہیں۔ اس کو منفی سوچ کے ساتھ جہاد سے تعبیر کرنا وزیر اعظم کے ذہنی دیوالیہ پن کا ثبوت ہے ۔ ایک طرف جہاں ملک بھر میں یہ مہم چلائی جا رہی ہے کہ عوام زیادہ سے زیادہ تعداد میں اپنے ووٹ کا استعمال کریں اور رائے دہی سے دوری اختیار نہ کریں وہیں ووٹ ڈالنے والوں کو ووٹ جہاد کرنے والے قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم ان کے حق رائے دہی کی ہتک کر رہے ہیں۔
انتخابات کے دوران رائے دہی کے چار مراحل کی تکمیل ہوچکی ہے ۔ اب پانچواں مرحلہ قریب ہے ۔ انتخابی مہم بھی اختتامی مراحل میں پہونچ رہی ہے ۔ ان مراحل کے دوران یہ واضح ہوگیا کہ ہر مرحلہ کیلئے ایک منفی سوچ اور منفی نعرہ کے ساتھ مودی عوام سے رجوع ہوئے ہیں۔ کبھی ایک بھی موقع پر انہوں نے مثبت سوچ کا مظاہرہ نہیں کیا اور نہ اپنی حکومت کی کارکردگی کو عوام کے سامنے پیش کرنے کی ہمت کی ہے ۔ صرف منفی سوچ کے ساتھ عوام سے رجوع ہوتے ہوئے مودی نے انتخابی مہم کے وقار کو مجروح کیا ہے ۔ اپنے عہدہ کے وقار کو مجروح کیا ہے اور صرف اپنی ناکام اور منفی سوچ کی عکاسی ہی کی ہے ۔