اوقافی جائیدادوںکے تحفظ میں تساہل پر عہدیداروں کے خلاف کارروائی

   

صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم کا انتباہ، تمام اضلاع کے انسپکٹرس کا اجلاس
حیدرآباد۔8 ۔ستمبر (سیاست نیوز) صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے تمام اضلاع اور شہر کے وقف انسپکٹر اور دیگر عہدیداروں کا اجلاس طلب کرتے ہوئے ضلع واری سطح پر اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے اقدامات کا جائزہ لیا ۔ محمد سلیم نے وقف انسپکٹرس اور آڈیٹرس کو ہدایت دی کہ ضلع واری سطح پر جائیدادوں کی تفصیل کے علاوہ غیر مجاز قبضوں کے بارے میں تفصیلی رپورٹ پیش کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہر انسپکٹر کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ کسی بھی جائیداد کے بارے میں ناجائز قبضہ کی شکایت ملتے ہی قابضین کے خلاف ایف آئی آر درج کرائیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر اوقافی جائیدادوں کے تحفظ میں تساہل کی شکایات ملیں گی تو انسپکٹرس کے خلاف تادیبی کارروائی سے گریز نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے علاوہ ان کی ترقی پر حکومت نے توجہ مرکوز کی ہے۔ جائیدادوں کی ترقی کے ذریعہ بورڈ کی آمدنی میں اضافہ کا منصوبہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہر ضلع میں وقف فنڈ اور کرایہ جات کی وصولی میں تیزی پیدا کی جائے ۔ وقف انسپکٹرس سے ہر ضلع میں وقف فنڈ اور کرایہ جات کے بارے میں رپورٹ طلب کی گئی ۔ محمد سلیم نے کہا کہ وقف جائیدادوں کے کرایہ جات مقررہ وقت پر وصول کئے جائیں تو بورڈ کی آمدنی میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کرایہ ادا نہ کرنے والے افراد کو نوٹس دی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ متولیوں اور کمیٹیوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ وقف بورڈ کو پابندی کے ساتھ فنڈ ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ وقف بور ڈ کی بہتر کارکردگی کا انحصار انسپکٹرس کی دیانتداری پر منحصر ہے۔ ہر انسپکٹر اور دیگر وقف ملازمین کو اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کیلئے سنجیدہ اقدامات کرنے چاہئے۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اوقافی جائیدادوں کے غیر مجاز رجسٹریشن روکنے کیلئے احکامات جاری کئے ہیں۔ R

تمام رجسٹریشن دفاتر میں وقف جائیدادوں کو رجسٹریشن سے ممنوعہ زمرہ میں شامل کیا گیا ہے۔ بورڈ کی جانب سے ابھی تک 500 سے زائد غیر مجاز رجسٹریشن منسوخ کئے گئے ۔ انہوں نے عہدیداروں سے کہا کہ اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے لئے ضلع کلکٹر اور پولیس کا تعاون حاصل کریں۔ انہوں نے کہا کہ وقف انسپکٹرس کا اجلاس باقاعدگی کے ساتھ طلب کیاجائے گا ۔ R