جگتیال اور میدک کی شکایتوں کا جائزہ، بلدیہ کے اسسٹنٹ سٹی پلانر کی طلبی
حیدرآباد۔ 16 ۔ ستمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ اقلیتی کمیشن کا اجلاس صدرنشین محمد قمرالدین کی صدارت میں منعقد ہوا ۔ کمیشن کے رکن ایم اے عظیم ، ریٹائرڈ جج ایم اے باسط اور کمیشن کے مشیران فاروق علی خان ، سید رحیم اور ایم اے رفیق نے شرکت کی۔ اجلاس میں 4 مختلف مقدمات کی سماعت کی گئی جن میں کریم نگر اور میدک کی اوقافی جائیدادوں کے مقدمات شامل ہیں۔ میدک ضلع کے ٹیکمال موضع میں واقع اوقافی جائیدادوں کی فروخت سے متعلق کمیشن نے سماعت کی ۔ ان اراضیات کو غیر قانونی طور پر فروغ دیا گیا ۔ کے وی رمیش ریڈی ڈسٹرکٹ رجسٹرار میدک اجلاس کے روبرو پیش ہوئے اور رپورٹ پیش کی ۔ شریمتی اے سی گریس بائی تحصیلدار ٹیکمال اور شریمتی جی شری لتا سب رجسٹرار میدک بھی اجلاس کے روبرو حاضر ہوئے۔ سب انسپکٹر پولیس ٹیکمال بھی موجود تھے۔ اقلیتی کمیشن نے ضلع کلکٹر میدک ، چیف اگزیکیٹیو آفیسر تلنگانہ وقف بورڈ اور اسسٹنٹ ڈائرکٹر سروے اینڈ لینڈ ریکارڈ میدک کو اراضی کے دوبارہ سروے کیلئے ہدایت جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اس مقدمہ کی سماعت 19 اکتوبر تک ملتوی کی گئی ۔ اس مدت کے دوران کسی بھی اوقافی اراضی کا رجسٹریشن نہ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ کمیشن نے انجمن علماء و حفاظ جگتیال کی جانب سے دھرما پوری میں اوقافی جائیدادوں سے متعلق معاملہ کی سماعت کی۔ وینکٹ ریڈی تحصیلدار دھرما پوری اجلاس میں حاضر ہوئے۔ خواجہ نظام الدین احمد وقف انسپکٹر کریم نگر نے وقف بورڈ کا موقف بیان کیا ۔ فریقین کی سماعت کے بعد کمیشن نے چیف اگزیکیٹیو آفیسر اور آر ڈی کو جگتیال کو وقف اراضی کے تحفظ کے اقدامات کی ہدایت دی۔ آئندہ سماعت 19 اکتوبر کو مقرر کی گئی ۔ حافظ عبدالرحمن ساکن گڈی ملکاپور نے شکایت کی کہ سعودی عرب میں واقع ایک کمپنی میں 21 سال تک خدمات انجام دینے کے بعد انہیں ریٹائرڈمنٹ بینیفٹ ادا نہیں کئے گئے۔ کمپنی کے جنرل مینجر حبیب الرحمن پرویز نے کمیشن کو بتایا کہ درخواست گزار کو سعودی عرب کی عدالت سے رجوع ہونا چاہئے اور یہ معاملہ تلنگانہ اقلیتی کمیشن کے دائرہ اختیار میں نہیں ہیں۔ اس مقدمہ کی آئندہ سماعت 19 اکتوبر کو ہوگی۔
