اوقافی جائیدادوں کی سی بی سی آئی ڈی تحقیقات، احکام کی عدم اجرائی

   

اسمبلی میں چیف منسٹر کے اعلان کو ایک ماہ مکمل، محکمہ اقلیتی بہبودکی عدم دلچسپی اہم وجہ
حیدرآباد۔/10 نومبر، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی جانب سے تلنگانہ اسمبلی میں اوقافی جائیدادوں پر ناجائز قبضوں کی سی بی سی آئی ڈی تحقیقات کے اعلان کو ایک ماہ مکمل ہوچکا ہے لیکن آج تک اس سلسلہ میں سرکاری احکامات جاری نہیں کئے گئے۔ حکومت کی جانب سے اسمبلی میں کئے گئے اعلانات اہمیت کے حامل ہوتے ہیں لیکن وقف جائیدادوں پر ناجائز قبضوں کی برخواستگی اور ان کے تحفظ کے سلسلہ میں چیف منسٹر کا اعلان پتہ نہیں کیوں ایک ماہ گذرنے کے باوجود بھی عملی شکل اختیار کرنے سے قاصر ہے۔ کے سی آر نے 7 اکٹوبر کو اسمبلی میں شہری اور دیہی علاقوں کی ترقی پر مباحث کے دوران یہ اعلان کیا تھا اور یہاں تک کہا تھا کہ اسی دن جی او جاری کردیا جائے گا۔ چیف منسٹر نے کہاکہ سی بی سی آئی ڈی تحقیقات کے ذریعہ نہ صرف غیر مجاز قبضوں کا پتہ چلایا جائے بلکہ حقیقی اوقافی جائیدادوں کی نشاندہی کی جائے گی۔ چیف منسٹر نے واضح کیا تھا کہ حکومت اوقافی جائیدادوں کے تحفظ میں سنجیدہ ہے۔ چیف منسٹر کے اعلان کو ایک ماہ 7 نومبر کو مکمل ہوچکا ہے لیکن سی بی سی آئی ڈی تحقیقات کا جی او ابھی تک جاری نہیں ہوا۔ بتایا جاتا ہے کہ جی او کی اجرائی کے سلسلہ میں عہدیداروں کو ہدایت دی گئی اور یہ مسئلہ جب محکمہ اقلیتی ببہود سے رجوع کیا گیا تو وہاں سے حکومت کو موثر مدد نہیں ملی جس کے نتیجہ میں جی او کی اجرائی ممکن نہ ہوسکی۔ بتایا جاتا ہے کہ موجودہ چیف ایگزیکیٹو آفیسر وقف بورڈ شاہنواز قاسم جو انسپکٹر جنرل رینک کے عہدیدار ہیں انہیں برقرار رکھتے ہوئے سی بی سی آئی ڈی کے جونیر آفیسر سے تحقیقات کرانا ممکن نہیں ہے۔ لہذا نئے چیف ایگزیکیٹو آفیسر کا تقرر کرتے ہوئے تحقیقات کا اعلان کیا جاسکتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ نئے چیف ایگزیکیٹو آفیسر کیلئے بعض ناموں پر غور کیا گیا لیکن سکریٹری اقلیتی بہبود نے اس معاملہ میں دلچسپی نہیں دکھائی۔ چیف منسٹر کے اعلان کے وقت اسمبلی کی آفیسرس گیلری میں سکریٹری اقلیتی بہبود کے علاوہ حکومت کے مشیر برائے اقلیتی امور موجود تھے لیکن ایک ماہ گذرنے کے باوجود بھی سی بی سی آئی ڈی تحقیقات کے احکامات کی عدم اجرائی سے حکومت کی سنجیدگی پر سوال کھڑے ہورہے ہیں۔ واضح رہے کہ سابق میں بھی بعض معاملات میں سی بی سی آئی ڈی تحقیقات کا اعلان کیا گیا تھا لیکن تحقیقات مکمل نہ ہوسکی اور اس کی رپورٹ کا کوئی اتہ پتہ نہیں ہے۔ر