اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کیلئے جی پی ایس میاپنگ پراجکٹ

   

آئی ٹی ماہرین کی صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم سے ملاقات، پراجکٹ کی جلد تکمیل کی خواہش

حیدرآباد۔ 18 ۔ ستمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ میں اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے لئے مرکزی حکومت کے اشتراک سے جی پی ایس اور جی آئی ایس میاپنگ پراجکٹ پر عمل آوری کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ اوقافی جائیدادوں کے حدودکی نشاندہی گوگل کے ذریعہ کرتے ہوئے تفصیلات آن لائین پیش کی جائیں ۔ سنٹرل وقف کونسل، ریاستی حکومت اور آئی آئی ٹی کے درمیان اس سلسلہ میں یادداشت مفاہمت پر دستخط ہوئے۔ جی آئی ایس یعنی جیوگرافیکل انفارمیشن سسٹم کے تحت بعض ریاستوں میں اوقافی جائیدادوں کے سروے کا کام مکمل ہوچکا ہے۔ آئی آئی ٹی کے ماہرین تلنگانہ میں پراجکٹ پر عمل آوری کے لئے حیدرآباد پہنچے۔ ماہرین نے آج صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم سے ملاقات کی اور تفصیلات سے واقف کرایا۔ انہوں نے بتایا کہ وقف بورڈ میں موجود ریکارڈ کی بنیاد پر تمام جائیدادوں کی جی پی ایس اور جی آئی ایس میاپنگ کی جائے گی اور یہ ریکارڈ آن لائین رکھا جائے گا۔ اس اقدام سے نہ صرف ناجائز قبضوں کو روکنے میں مدد ملے گی بلکہ موجودہ صورت میں ناجائز قبضوں کی بآسانی نشاندہی ہوپائے گی۔ آئی آئی ٹی کے تین ماہرین توقع ہے کہ دو ماہ تک حیدرآباد میں قیام کرتے ہوئے پراجکٹ کی تکمیل کریں گے۔ صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے بورڈ کے دیگر عہدیداروں کے ساتھ اجلاس منعقد کرتے ہوئے ہدایت دی کہ سروے کے کام میں مکمل تعاون کیا جائے ۔ وقف بورڈ کے پاس جائیدادوں سے مطابق جو بھی تفصیلات ہیں، انہیں ماہرین کے حوالے کریں تاکہ پراجکٹ کی جلد تکمیل میں مدد ملے ۔ انہوں نے کہا کہ جی پی ایس اور جی آئی ایس میاپنگ کی تکمیل کے بعد تلنگانہ میں اوقافی جائیدادوں کے تحفظ میں مدد ملے گی ۔ وہ چاہتے ہیں کہ تلنگانہ کی تمام جائیدادیں ناجائز قابضین سے محفوظ ہوجائیں۔ معاہدہ کے مطابق پراجکٹ کی فنڈنگ سنٹرل وقف کونسل کی جانب سے کی جائے گی ۔