اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کیلئے خصوصی ٹیموں کی تشکیل

   

Ferty9 Clinic


شہر کی اہم جائیدادوں پر ناجائز قبضوں کی شکایت،صدرنشین محمد سلیم کا جائزہ اجلاس
حیدرآباد: صدرنشین تلنگانہ وقف بورڈ محمد سلیم نے اوقافی جائیدادوں کے تحفظ اور جائیدادوں کے کرایہ جات کی وصولی کے سلسلہ میں خصوصی ٹیمیں تشکیل دی ہیں۔ انہوں نے آج وقف بورڈ کے عہدیداروں کے ساتھ جائزہ اجلاس منعقد کرتے ہوئے اوقافی جائیدادوں کے تحفظ اور کرایہ جات میں اضافہ کے بارے میں تفصیلات حاصل کی۔ انہوں نے کہا کہ کرایہ جات کی وصولی غیر اطمینان بخش ہے، لہذا عہدیداروں کو اس جانب توجہ مرکوز کرنی ہوگی ۔ خصوصی ٹیموں کو حیدرآباد اور دیگر اضلاع روانہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ متعلقہ وقف انسپکٹرس کے علاوہ سرویئرس اور دیگر عہدیداروں کو ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔ انہوں نے شیخ پیٹ میں عثمانیہ یونیورسٹی کالونی کی مسجد آمینہ کا دورہ کرنے کی ہدایت دی جہاں غیر مجاز تعمیرات جاری ہیں۔ 1538 مربع گز اراضی پر قبضہ کے سلسلہ میں پولیس میں شکایت درج کی گئی ۔ رنگا ریڈی ضلع کے منسان پلی موضع میں 26 گنٹہ پر محیط مسلم قبرستان میں ناجائز قبضے کئے جارہے ہیں۔ نیک نام پورہ کے سروے نمبر 31 کے تحت اراضی کا ریونیو عہدیداروں کے ساتھ مشترکہ سروے کرانے کی ہدایت دی گئی ۔ درگاہ اسد اللہ شاہ قادری کے تحت اوقافی اراضیات کے تحفظات کے علاوہ رنگا ریڈی ضلع کے منچراوالا موضع میں غیر مجاز قبضوں کی برخواستگی کی ہدایت دی گئی ہے۔ خصوصی ٹیمیں ضلع کلکٹر سے ملاقات کرتے ہوئے نمائندگی کرے گی اور وقف ریکارڈ پیش کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ غیر مجاز قبضوں کی برخواستگی کے ذریعہ وقف جائیدادوں کو ترقی دی جائے گی ۔ انہوں نے عہدیداروں سے کہا کہ اپنی ذمہ داری محسوس کرتے ہوئے وقف جائیدادوں کا تحفظ کریں کیونکہ وقف جائیدادیں اللہ کی امانت ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کے سی آر نے وقف جائیدادوں اور اراضیات کے رجسٹریشن پر پابندی عائد کردی ہے۔ وقف بورڈ کی جانب سے حالیہ عرصہ میں قابضین کی جانب سے کئے گئے غیر مجاز رجسٹریشن منسوخ کرنے کی کارروائی شروع کردی گئی ہے۔ انہوں نے چیف منسٹر کے سی آر اور وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی راما راؤ سے اظہار تشکر کیا اور کہا کہ وقف بورڈ کو مکمل تعاون کے ذریعہ وقف جائیدادوں کا تحفظ یقین بنایا گیا ہے ۔