ٹاسک فورس ٹیموں کیلئے نئی گاڑیوں کی خریدی، صدرنشین محمد سلیم نے جھنڈی دکھائی
حیدرآباد۔ صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے کہا کہ ریاست میں اوقافی جائیدادوں اور اراضیات کے تحفظ کے سلسلہ میں حکومت کے تعاون سے قابضین کے خلاف مقدمات درج کرائے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عدالتوں میں زیر دوران مقدمات میں کامیابی کیلئے وقف بورڈ میں نئے اسٹینڈنگ کونسلس اور لاء آفیسرس کا تقرر کیا گیا ہے۔ کسی بھی مقام پر ناجائز قبضوں یا تعمیرات سے متعلق شکایت ملنے پر ٹاسک فورس ٹیموں کی روانگی کیلئے وقف بورڈ نے 3 نئی بولیرو گاڑیاں خریدی ہیں۔ محمد سلیم نے آج تینوں گاڑیوں کو جھنڈی دکھاکر روانہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ وقف بورڈ میں عہدیداروں کو شہر اور اضلاع میں فوری پہنچنے میں دشواریوں کا سامنا تھا لہذا اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے نئی گاڑیاں خریدی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عہدیداروں پر مشتمل ٹاسک فورس بیک وقت کئی مقامات پر پہنچ کر جائیدادوں کا تحفظ کرسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سینئر ایڈوکیٹس کی خدمات حاصل کرتے ہوئے وقف بورڈ نے حالیہ عرصہ میں گٹلہ بیگم پیٹ اور درگاہ حضرت سالار اولیاء ؒ کی اراضی کے تحفظ میں کامیابی حاصل کی ہے۔ ہائی کورٹ نے گٹلہ بیگم پیٹ کی اراضی پر غیر مجاز تعمیرات کو فوری روکنے کی ہدایت دی ہے۔ محمد سلیم نے کہا کہ وقف جائیدادیں تاقیامت وقف رہتی ہیں اور ان کے موقف کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ ناجائز قابضین عارضی طور پر مطمئن ہوسکتے ہیں لیکن وہ اوقافی جائیدادوں کا رجسٹریشن نہیں کرپائیں گے۔ وقف بورڈ کی جانب سے ابھی تک 100 رجسٹریشن منسوخ کئے گئے ہیں۔ حکومت نے رجسٹریشن کی منسوخی کیلئے وقف بورڈ کو اجازت دی ہے۔اس کے علاوہ رجسٹریشن کے ڈپارٹمنٹ کو پابند کیا گیا ہے کہ اوقافی جائیدادوں کے رجسٹریشن کسی بھی صورت میں انجام نہ دیئے جائیں۔ محمد سلیم نے کہا کہ چیف منسٹر کے سی آر اور وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی کے ٹی آر کی مکمل تائید سے اوقافی جائیدادوں کے تحفظ میں مدد ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقف بورڈ میں ٹاسک فورس ٹیموں کیلئے گاڑیوں کی تعداد 7 ہوچکی ہے ان میں سے ایک گاڑی چیف ایکزیکیٹو آفیسر کیلئے مختص ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر مجاز قابضین کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا سلسلہ جاری ہے اور حکومت نے پولیس اور ضلع کلکٹرس کو اس سلسلہ میں پابند کیا ہے۔ گاڑیوں کی روانگی کے موقع پر وقف بورڈ کے ارکان صوفیہ بیگم، ایم اے وحید اور دیگر عہدیدار موجود تھے۔