قبرستانوں میں جگہ کی فراہمی سے انکار پر کاررائی کا انتباہ، صدرنشین محمد سلیم کا عہدیداروں کے ساتھ اجلاس
حیدرآباد: تلنگانہ میں اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے لئے وقف بورڈ کو مستحکم کرنے کے مقصد سے حکومت نے ڈی ایس پی رینک کے عہدیدار کو تلنگانہ وقف بورڈ میں تعینات کیا ہے ۔ غیر مجاز قبضوں کی برخواستگی اور جائیدادوں کے تحفظ کے معاملہ میں وقف بورڈ کو اختیارات کی کمی ہے ۔ پولیس اور ریونیو حکام کے تعاون کے بغیر وقف بورڈ عہدیدار کسی بھی کارروائی سے قاصر ہیں۔ بورڈ کو مستحکم بنانے کیلئے حکومت نے ڈی ایس پی تلنگانہ جینکو سید خواجہ معین الدین کا تبادلہ کرتے ہوئے ان کی خدمات تلنگانہ وقف بورڈ کے حوالے کی جہاں انہیں وقف بورڈ ٹاسک فورس ٹیم کا انچارج مقرر کیا گیا ہے۔ اسی دوران صدرنشین وقف بورڈ نے ڈی ایس پی اور دیگر عہدیداروں کے ساتھ اجلاس منعقد کیا جس میں اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے علاوہ کورونا کی موجو دہ صورتحال میں قبرستانوں میں میتوں کیلئے مفت جگہ کی فراہمی کو یقینی بنانے کا فیصلہ کیا گیا ۔ ٹاسک فورس کو ذمہ داری دی گئی ہے کہ وہ کسی بھی مقام پر ناجائز قبضوں کی اطلاع ملنے پر غیر مجاز قابضین کے خلاف مقدمات درج کرائیں۔ تمام قبرستان کمیٹیو اور متولیوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ میتوںکی تدفین میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ کریں۔ غیر مقامی کا بہانہ بنا کر تدفین کیلئے جگہ کی فراہمی سے انکار نہ کیا جائے ۔ صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے کہا کہ جگہ کی فراہمی سے انکار کرنے والے متولیوں اور کمیٹیوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی اور ضرورت پڑنے پر انہیں معطل بھی کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقف بورڈ کی جانب سے میتوں کی تدفین کیلئے 5000 روپئے غریب اور مستحق افراد کو فراہم کئے جاتے ہیں۔ وقف بورڈ میں ہیلت ڈیسک قائم کیا گیا ہے جس کا نمبر 7995560136 ہے اور کوئی بھی اس نمبر پر ربط قائم کرے تو وقف بورڈ ے عہدیدار ان کے گھر پہنچ کر امداد حوالے کریں گے ۔ محمد سلیم نے کہا کہ متولیوں اور قبرستان کمیٹیوں کو جگہ کیلئے رقم کا مطالبہ کرنے کا کوئی حق نہیں ہے ۔ صرف مزدوروں کے لئے قبر کی کھدائی کے چارجس وصول کئے جاسکتے ہیں۔ انہوں نے وقف بورڈ میں ڈی ایس پی رتبہ کے عہدیدار کے تقرر پر چیف منسٹر سے اظہار تشکر کیا اور کہا کہ وقف بورڈ کو قابضین کے خلاف کارروائی میں مدد ملے گی ۔ انہوں نے عہدیداروں سے کہا کہ وہ اہم جائیدادوں پر غیر مجاز قبضوں کی تفصیلات سے ٹاسک فورس کو واقف کرائیں۔