وقف بورڈ کی کارکردگی پر عہدیداروں کے ساتھ شہزادی بیگم کا اجلاس، آئمہ اور مؤذنین کے اعزازیہ کی بروقت ادائیگی کی ہدایت
حیدرآباد 3 مارچ (سیاست نیوز) قومی اقلیتی کمیشن کی کارگذار صدرنشین شہزادی بیگم نے تلنگانہ میں اوقافی جائیدادوں پر ناجائز قبضوں اور اداروں کی زبوں حالی پر تشویش کا اظہار کیا۔ اُنھوں نے موجودہ وقف قانون میں ترمیم کرتے ہوئے وقف بورڈ کو جوڈیشیل پاور کے سلسلہ میں چیف منسٹر سے مرکزی حکومت کو مکتوب روانہ کرنے کی صلاح دی۔ اُنھوں نے کہاکہ قومی اقلیتی کمیشن چیف منسٹر کے مکتوب کو اپنی تجاویز کے ساتھ حکومت کو روانہ کرے گا۔ شہزادی بیگم نے آج حج ہاؤز میں وقف بورڈ کی کارکردگی کا عہدیداروں کے ساتھ جائزہ لیا۔ ڈائرکٹر اقلیتی بہبود اور چیف ایگزیکٹیو آفیسر شاہنواز قاسم آئی پی ایس نے دیگر عہدیداروں کے ہمراہ اجلاس میں شرکت کی اور اوقافی جائیدادوں کے تازہ ترین موقف سے واقف کرایا۔ شہزادی بیگم نے غیرمجاز قبضوں کی برخاستگی کیلئے وقف بورڈ کے اقدامات اور اقلیتوں کی بھلائی سے متعلق اسکیمات طلب کیں۔ اُنھوں نے جائیدادوں کے تحفظ سے متعلق میکانزم کو مزید مؤثر بنانے کا مشورہ دیا اور کہاکہ وقف بورڈ کی آمدنی سے اقلیتوں کی بھلائی کی اسکیمات شروع کی جائیں۔ بتایا جاتا ہے کہ شاہنواز قاسم نے ملازمین کی کمی کی شکایت کی اور بتایا کہ عارضی طور پر 50 ملازمین کے تقررات کیلئے حکومت سے اجازت طلب کی گئی ہے۔ شہزادی بیگم نے رمضان المبارک کے انتظامات کے بارے میں سوالات کئے۔ عہدیداروں نے بتایا کہ عارضی ملازمین کے ذریعہ ہر سال کی طرح اس سال بھی رمضان المبارک کیلئے مساجد میں مؤثر انتظامات کئے جائیں گے۔ کارگذار صدرنشین نے وقف بورڈ کے ذریعہ مطلقہ خواتین کو دی جانے والی امداد میں اضافہ اور خواتین کی تعداد بڑھانے کا مشورہ دیا۔ ہائیکورٹ اور وقف ٹریبونل میں زیردوران مقدمات کے موقف سے بھی شہزادی بیگم کو آگاہ کیا گیا۔ دیگر اضلاع میں عنقریب یہ کمیٹیاں قائم کی جائیں گی۔ شہزادی بیگم نے اُن کمیٹیوں کو متحرک بنانے کا مشورہ دیا۔ آئمہ اور مؤذنین کے ماہانہ اعزازیہ کے سلسلہ میں تمام زیرالتواء درخواستوں کی منظوری کی ہدایت دیتے ہوئے کارگذار صدرنشین نے کہاکہ محض 10 ہزار آئمہ اور مؤذنین کے لئے اعزازیہ کی اجرائی ناکافی ہے۔ مزید 3 ہزار درخواستوں کی فوری یکسوئی کی جائے۔ اُنھوں نے اعزازیہ کی اجرائی میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا اور کہاکہ سرکاری ملازمین کی طرح ہر ماہ کی پہلی تاریخ کو اعزازیہ کی رقم اکاؤنٹ میں جمع کردی جائے۔ سوریہ پیٹ اور عادل آباد میں بعض جائیدادوں کے تحفظ کی ہدایت دی۔ شہزادی بیگم نے چیف ایکزیکٹیو آفیسر سے کہاکہ اگر وقف ایکٹ میں ترمیم کے ذریعہ وقف بورڈ کے اختیارات میں اضافہ ضروری ہے تو چیف منسٹر کو چاہئے کہ وہ قومی کمیشن اور مرکز کو مکتوب روانہ کریں۔ کارگذار صدرنشین نے اوقافی جائیدادوں کے مسئلہ پر عنقریب دوبارہ اجلاس طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ر