امید پورٹل میں وقف اندراج کیلئے متولیان و دیگر ذمہ داران متحرک ہو جائیں: عظمت اللہ حسینی
نرمل ۔ 21 نومبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) وقف کے تحت منقولہ یا غیر منقولہ جائیداد کو مستقل طور پر مذہبی، فلاحی یا خیراتی مقاصد کے لئے وقف کردیا جاتا ہے ایک بار وقف ہونے کے بعد جائیداد اللہ کی ملکیت ہو جاتی ہے اور اسے فروخت یا وراثت میںمنتقل نہیں کیا جاسکتا۔ اس لئے کہ اوقاف کی ایک طویل اور اہم تاریخ ہے۔ ان خیالات کا اظہار صدرنشین وقف بورڈ ریاست تلنگانہ سید عظمت اللہ حسینی نے نرمل کے مقامی دفتر سیاست میں سید جلیل ازہر اسٹاف رپورٹر روزنامہ سیاست کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں کیا۔ سید عظمت اللہ حسینی جمعیۃ العلماء ضلع نرمل کے زیر اہتمام منعقدہ امید پورٹل، شعور بیداری اجلاس میں شرکت کے لئے آئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ تمام متولیوں، سجادہ نشین کی اہم ذمہ داری ہے کہ وقف بورڈ کے تحت مساجد، درگاہیں، قبرستان، عاشور خانے، دینی مدارس وغیرہ کو مرکزی حکومت کی ہدایت کے مطابق امید پورٹل میں اندراج کروالیں۔ تمام متولیان اور متعلقین اپنے اپنے وقف جائیدادوں کے دستاویزات محفوظ رکھیں اور ان کا امید پورٹل میں اندراج کروائیں۔ (UMEED) کا مطلب یونیفائیڈ مینجمنٹ امپاورمنٹ ایفی شنسی اینڈ ڈیولپمنٹ ہے۔ نئے قوانین کے تحت جائدادوں کا اندراج لازمی ہے۔ اس میں اگر کہیں جائیدادوں کا اندراج نہیں ہوتو نشاندہی کرتے ہوئے وقف بورڈ کے عہدیداروں سے رہنمائی حاصل کریں۔ عظمت اللہ نے کہا کہ وقف اللہ کی ملکیت ہے اور مسلمان اس کے امین ہیں اوقاف کا تحفظ مسلمانوں کی شرعی ذمہ داری ہے۔ مسلمان اس کے لئے آگے آئیں۔ ذمہ دار شہریوں اور تنظیموں سے میری گذارش ہے کہ وہ اس سلسلہ میں وقف جائیدادوں کے اندراج کے لئے متحرک ہو جائیں، ہم بھی ریاست تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ سے نمائندگی کریں گے۔ وہ مرکزی حکومت سے امید پورٹل کی تاریخ میں توسیع کے لئے نمائندگی کریں۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ مدینہ کے قریب بس حادثہ میں جاں بحق عمرہ زائرین کا واقعہ بہت دردناک ہے۔ پسماندگان کے غم میں ہم برابر کے شریک ہیں۔ اللہ تعالیٰ تمام خاندانوں کے پسماندگان کو صبر جمیل عطا کرے آمین۔