حیدرآباد۔ کورونا وائرس کی وباء‘ لاک ڈاؤن اور پٹرول و ڈیزل کی قیمتوں سے پریشان حال اولا ‘ اوبر ڈرائیورس اب کورونا وائرس کی دوسری لہر کے سبب شدید مشکلات کا شکار بنے ہوئے ہیں اور ان کے ساتھ
SWIGGY
اور
ZOMATO
کے ڈیلیوری بوائزکوبھی کورونا وائرس کی توثیق کے بعد ان کی حالت بھی غیر ہونے لگی ہے اور کاروبار بری طرح سے متاثر ہونے لگے ہیں۔ریاست تلنگانہ میں کورونا وائرس کی دوسری لہر کے دوران 549 اولا اور اوبر ڈرائیورس اور 311 ڈیلیوری بوائز کو کورونا وائرس کی توثیق ہوئی ہے اور کہا جار ہاہے کہ ریاست تلنگانہ میں ان دونوں شعبوں سے وابستہ افراد کے لئے کوئی سرکاری سہولت حاصل نہیں ہے اسی لئے ان دونوں شعبوں میں خدمات انجام دینے والوں کو مصیبتوں کوسامنا کرنا پڑرہا ہے۔ شہر حیدرآباد میں اولا اور اوبر کے علاوہ
SWIGGY
اور
ZOMATO
کے ڈیلیوری بوائز میں کورونا وائرس کی توثیق کے بعد اب ان شہریوں میں تشویش پائی جانے لگی ہے جو کہ گھروں سے نکلنے میں تو احتیاط کر رہے ہیں لیکن گھر بیٹھے ہوٹلوں میں تیار کی جانے والی اشیاء منگوارہے ہیں ۔ بتایاجاتا ہے کہ اولا اور اوبر ڈرائیورس کو درپیش مسائل کے حل کے سلسلہ میں متعدد نمائندگیوں کے باوجود حکومت کی جانب سے کوئی کاروائی نہیں کی جا رہی ہے اور نہ ہی ان ڈرائیورس کی مدد کے لئے کوئی میکانزم تیار کیا جا رہاہے۔اولا اور اوبر ڈرائیورس اسوسیشن کے ذمہ دارو ںنے بتایا کہ گذشتہ 2 ہفتوں کے دوران شہر حیدرآباد میں 8 ڈرائیورس کی موت کورونا وائرس کے سبب واقع ہوئی ہے اور بڑی تعداد میں ڈرائیورس کے متاثر ہونے کے سبب وہ کام کرنے کے موقف میں نہیں ہیں اسی لئے ریاستی حکومت کو ان کی مدد اور متاثر ہونے والے ڈرائیورس کے علاج و معالجہ کے لئے اقدامات کو یقینی بنانا چاہئے ۔ بتایاجاتا ہے کہ ریاست تلنگانہ میں حکومت سے کی جانے والی متعدد نمائندگیوں کے بے فیض ہونے کے باوجود ڈرائیورس کو توقع ہے کہ حکومت کی جانب سے ڈرائیورس کی معاشی امداد کے علاوہ ان کے علاج کیلئے سہولتوں کی فراہمی کے اقدامات کئے جائیں گے۔ اسی طرح
SWIGGY
اور
ZOMATO
کے ڈیلیوری بوائز کا کہناہے کہ گھر گھر ڈیلیوری اور کھانے کی فراہمی کو یقینی بنانے میں ان کے اب تک 311 ساتھی کورونا وائرس سے متاثر ہوچکے ہیں اور اس حالت میں وہ اپنے کام کو جاری رکھنے کے موقف میں نہیں ہے اور نہ ہی انہیں بہتر علاج کی کوئی سہولت حاصل ہے۔