اولا اور اوبر کی بیرون ریاست رجسٹرڈ موٹر گاڑیوں کی حیدرآباد میں خدمات

   

موٹر وہیکل قانون کی کھلے عام خلاف ورزی ، کمپنیوں کے خلاف کارروائی پر غور
حیدرآباد۔23فروری(سیاست نیوز) اولا اور اوبر کی جانب سے کی جانے والی موٹر وہیکل قوانین کی خلاف ورزی کی متعدد شکایات کے بعد اب نئی شکایات سامنے آنے لگی ہیں اور کہا جار ہاہے کہ ان کمپنیوں کی جانب سے ملک کی دیگر ریاستوں میں ٹیکسی رجسٹریشن کروانے والی گاڑیوں کو ریاست تلنگانہ کے شہروں بالخصوص شہر حیدرآباد میں چلایا جانے لگا ہے جو کہ موٹروہیکل قوانین کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔ اولا اور اوبر کی خدمات کے آغاز کے ساتھ ہی جو دائرہ اور حدود مقرر کئے گئے تھے ان کے مطابق شہری حدود میں ہی ان گاڑیوں کو چلانے کی اجازت فراہم کی جا رہی تھی اور شہر کے باہر کے علاقوں میں اولا اور اوبر ٹیکسی کے حصول کے لئے ان شہروں کی ٹیکسیوں کے استعمال کے لئے مجبور کیا جا رہا تھا لیکن اب مختصر سفر اور طویل سفر کے نام پر دیگر ریاستوں کی ٹیکسی کاروں کو جو کہ تلنگانہ میں رجسٹریشن نہیں کروائی ہیں ان کو شہر حیدرآباد میں خدمات انجام دینے کی اجازت فراہم کی جا رہی ہے جس پر شہر حیدرآباد میں اولا اور اوبر خدمات سے مربوط کاروں کے مالکین اور ڈرائیورس کو معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ ان کمپنیوں کی جانب سے فراہم کی جانے والی خدمات کے متعلق ڈرائیورس کی شکایات کے سلسلہ میں عہدیداروں نے بتایا کہ موٹر وہیکل قوانین کے سلسلہ میں مرکزی و ریاستی حکومت کے مابین تعلق اور قوانین کا جائزہ لینے کے بعد ہی اس سلسلہ میں کسی قسم کی کاروائی کی جا سکتی ہے کیونکہ ٹیکسی نمبر پلیٹ رکھنے والی گاڑیوں کے لئے مرکزی حکومت کی جانب سے منظورہ قوانین کے مطابق وہ ملک بھر کا پرمٹ رکھنے والی ہیں اسی لئے عہدیداروں اور محکمہ روڈ ٹرانسپورٹ کی جانب سے قانونی رائے حاصل کی جا رہی ہے تاکہ قانون کے مطابق ان کے خلاف کاروائی کی جاسکے۔بتایاجاتا ہے کہ اولا اور اوبر سے مربوط گاڑیوں کے مالکین اور ڈرائیورس کی جانب سے کی جانے والی متعدد نمائندگیوں کا عہدیدارو ںکی جانب سے جائزہ لیا جا رہاہے اور ان نمائندگیوں پر قانونی رائے حاصل کی جار ہی ہے اور اگر کمپنیوں کی جانب سے قانون کی خلاف ورزی ثابت ہوتی ہے تو ایسی صورت میں ان کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔م