اولمپکس میں جینڈر ٹسٹ خواتین کی توہین ہے

   

نئی پالیسی پر جنوبی افریقی ایتھلیٹ کی شدید تنقید
کیپ ٹاون۔ 30؍مارچ ( ایجنسیز )جنوبی افریقہ کی اولمپک گولڈ میڈلسٹ ایتھلیٹ کیسٹر سیمینیا نے اولمپکس میں جینڈر ٹسٹ پالیسی کو خواتین کی توہین قرار دیتے ہوئے اس پر سخت ردعمل دیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کی نئی پالیسی کے تحت خاتون کھلاڑیوں کے لیے جنس کی تصدیق کے ٹسٹ متعارف کرانے کی تجویز دی گئی ہے جس پر بحث جاری ہے۔ کیسٹر سیمینیا نے اس اقدام کو نہ صرف غیر ضروری بلکہ خواتین کی عزت کے خلاف قرار دیا۔سیمینیا کا کہنا تھا کہ ایسے ٹسٹ خواتین کے لیے باعثِ شرمندگی ہیں اور یہ کھلاڑیوں کے وقار کو مجروح کرتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ کھیلوں میں شمولیت اور برابری کو فروغ دینے کے بجائے یہ پالیسیاں امتیازی سلوک کو بڑھا رہی ہیں۔واضح رہے کہ انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کی نئی پالیسی کے تحت ٹرانس جینڈر اور کچھ انٹر سیکس کھلاڑیوں کی شرکت پر پابندیاں عائد کرنے اور جنس کی تصدیق کیلئے سائنسی ٹسٹ متعارف کرانے پر غور کیا جا رہا ہے جسے بعض حلقے خواتین کے کھیلوں کے تحفظ کے لیے ضروری قرار دے رہے ہیں جبکہ ناقدین اسے امتیازی سلوک قرار دے رہے ہیں۔ یہ معاملہ عالمی کھیلوں میں برابری، انصاف اور انسانی حقوق کے درمیان توازن کے حوالے سے ایک بڑی بحث کا سبب بن چکا ہے جس پر مختلف حلقوں کی رائے منقسم ہے۔