عرس تقاریب حضرت سید محمد عبدالقادر مجذوب ؒ سے ڈاکٹرسیدشاہ رضوان پاشاہ قادری ودیگرکاخطاب
محبوب نگر یکم / جنوری ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) جانشین سجادہ نشین باگاہ حضرت عبدالطیف لااْبالیؒ کرنول ترجمان قادریت حضرت علامہ الحاج حافظ ڈاکٹر سید شاہ رضوان پاشاہ قادری مولوی کامل الحدیث جامعہ نظامیہ وبانی دی قرآن اکیڈیمی نے کہاکہ شہنشاہ ولایت قطب محبوب نگر حضرت سید محمد عبدالقادر بابا قادری مجذوب ؒکے86 ویں سالانہ چار روزہ عرس شریف تقاریب کے موقع پرکہا کہ اللہ جل مجدہ نے ہمیں جو زندگی عطا فرماء ہے ۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ جو بندے اللہ سبحانہ تعالٰی کو راضی کرنے میں اپنی زندگی گزاردئیے ہیں ۔ سو سال گزرنے کے باوجود ان کا عرس شریف بھی باقی رہتا ہے اور ان کا ذکر بھی باقی رہتا ہے۔ اولیاء اللہ کے آستانوں پر آنے پھول چڑھانے، چادر چڑھانے اور عقیدت کے نذرانے پیش کرنا ہی کافی نہیں ہوتا ہے بلکہ اولیاء اللہ کی تعلیمات پر عمل کرنا انکے بتلائے ہوئے راستہ پر چلنا ہی اولیاء اللہ سے اصل عقیدت و محبت کرنا ہوتا ہے۔ مولانا نے کہاکہ ایک بھلائی کا رآستہ ہوتا ہے اور ایک برائی کا راستہ ہوتا ہے ۔ اولیاء اللہ نے ہمیشہ ہمیں بھلائی کی راہ اختیار کرنے کی تربیت واصلاح نفس، ذکر واذکار، درود شریف اور نماز پنجگانہ باجماعت کے علاوہ تہجد و اوابین اشراق و چاشت کے ذریعہ تربیت فرمائی ہے-قرآن حکیم میں اعمال صالحہ کے لئے جو شرط مقرر کی گئی ہے وہ ایمان لانے کی ہے چاہے وہ مرد ہوں یا عورتیں۔ آج جتنے اولیاء اللہ کی مزارات مقدسہ نظر آرہی ہیں الحمد للہ وہ سب متقی پرہیز گار اور زہد ورع والی ماوؤں کے پاکیزہ بطن سے پیدا ہونے والے نفوس قدسیہ ہی اولیاء اللہ بنتے ہیں۔سردار اولیاء پیران پیر حضرت سیدنا غوث الاعظم دستگیر ؓ کی امی جان کی مثال دیتے ہوئے کہاکہ حصرت پیران پیرؒ کی صالح تربیت کے پیچھے دو ہستیاں کار فرما ہیں ایک تو آپؒکے والد ماجد حضرت ابو صالح موسیٰ جنگی اور دوسرے آپکی والدہ ماجدہ سیدہ ام الخیر امتہ الجبار فاطمہ رحمت اللہ علیہا ہیں-دنیا میں جتنے بھی بڑے اولیاء اللہ گذرے کمال پہلے انکی ماوؤں کا ہوا کرتا ہے بعد میں کمال اولیاءؒ اللہ کا ہوا کرتا ہے۔ترجمان قادریت نے اولیاء اللہ کی تربیتوں کے پیچھے ماوؤں کی محنت کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ چاہے وہ سردار اولیاء اللہ حضرت پیران پیرؒ ہوں یا عطائے رسول حضرت سیدنا خواجہ معین الدین حسن سنجری المعروف حضرت خواجہ غریب النواز چشتیؒ ہوں یا حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکیؒ ہوں یا حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکرؒ ہوں یا حضرت سیدنا علاء الدین علی صابر پیا کلیریؒہوں یا حضرت سیدنا نظام الدین محبوب الہیؒ ہوں تمام اولیاء اللہ کے تربیت و ولایت کے منصب تک پہنچانے میں والداؤں کا بہت بڑا عمل دخل ہے۔ سجادہ نشین ومتولی بارگاہ شہنشاہ ولایتؒ الحاج محمد عبدالضمیر طاہری قادری نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ قطب محبوب نگر حضرت سید محمد عبدالقادر بابا قادری مجذوب ؒ کے در پر جو بھی آتے ہیں خالی ہاتھ نہیں لوٹتے ۔ فاتحہ قل شریف میں حضرت محمد عبدالحفیظ قادری سجادہ نشین بارگاہ معدومیہؒ دھرما پور، سید واصف شاہ قادری ، مولانا حافظ محمد افتخار چودھری قادری کاورم پیٹ،حضرت مولانا حافظ محمد الیاس علی قادری مولوی کامل جامعہ نظامیہ،حضرت سید زین العابدین اظہر،محمد نواب قادری، محمد جہانگیر پاشاہ قادری، محمد آدم رضا قادری چشتی کے علاوہ سینکڑوں مرد و خواتین موجود تھے۔ جلسہ کا آغاز حضرت مولانا حافظ وقاری الحاج محمد عبدالعلی قادری نقشبندی مولوی کامل جامعہ نظامیہ و نائب امام تاریخی مکہ مسجدحیدرآباد کی قرأ ت کلام پاک اور مولانا حافظ محمد الیاس علی قادری عزیزی مولوی کامل جامعہ نظامیہ کی نعت شریف سے ہوا۔