نارائن پیٹ میں بین مذہبی کانفرنس، سید شاہ نصیر الدین چشتی کا خطاب
نارائن پیٹ۔ ہندوستان ایک سیکولر ملک ہے جہاں مختلف مذاہب کے ماننے والے الگ الگ زبانوں کے بولنے والے اور تہذیب و ثقافت کے جدا جدا رنگ دیکھنے کو ملتے ہیں۔ لیکن ان میں اپنی اپنی انفرادیت کے باوجود قومی یکجہتی کے دھاگے میں پروئے رکھنے کا کام اولیاء کرام کے آستانوں پر ہوتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں بھٹکی ہوئی انسانیت کو صحیح راہ دکھائے جانے کا عمل ہوتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار مختلف مذاہب کے پیشواؤں اور سیاسی و سماجی قائدین نے نارائن پیٹ منڈل کے موضع کولم پلی میں درگاہ حضرت سید شاہ احمد قتال حسینی ؒ کے عرس شریف کے موقع پر بین مذہبی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس کی صدارت مولانا الحاج سید شاہ محمد محمدالحسینی سجادہ نشین گوگی شریف نے کی۔ مولانا الحاج سید شاہ جلال حسینی اشرفی سجادہ نشین درگاہ کولم پلی نے نگرانی کی۔ اس بین مذہبی کانفرنس میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے سید شاہ نصیر الدین چشتی جانشین سجادہ درگاہ حضرت خواجہ غریب نواز ؒ دیوان جی اجمیر شریف ، سید عین الحسن وائس چانسلر مانو حیدرآباد، محمد حنیف علی سنٹرل وقف کونسل ممبر، سرینواس ریڈی رکن پارلیمنٹ محبوب نگر، نظام پاشاہ چیرمین ڈی سی سی بی، ڈاکٹر چیتنا ضلع ایس پی نارائن پیٹ، شری شاشاویر راجندر سوامی، شری گروبارامیا سوامی، سید مصطفے قادری کرناٹک، سید شاہ اشرف النساء رائچور، سید شاہ عبدالرزاق قادری محبوب نگر، مولانا عبدالناصر مظاہری، سید امتیاز اسحاق اسٹیٹ سکریٹری ٹی آر ایس، امیر الدین کونسلر، ڈاکٹر تبریز حسین تاج، وحید پاشاہ حیدرآباد، محمد تاج الدین معاون رکن، ایم ایل اے دیاکر ریڈی نے شرکت کی۔ مقررین نے کہا کہ اولیاء اللہ کے آستانوں سے انسانیت کا پیغام ملتا ہے۔ ہر شخص ایک دوسرے کے مذاہب کا احترام کرے۔ سید نصیر الدین چشتی اور دیگر نے مہمانوں کا نارائن پیٹ میں شاندار استقبال کیا۔ اس موقع پر سجادہ نشین درگاہ سید شاہ جلال الدینی اشرفی اور جانشین سجادہ مولانا سید احمد حسینی اشرفی کے ہاتھوں مہمانوں کی گلپوشی کی گئی۔ اس موقع پر محمد شفیع، محمد جعفر تاج، محمد تقی چاند اور دیگر ذمہ داران موجود تھے۔ عبدالسلیم ایڈوکیٹ نے پروگرام کی کارروائی چلائی۔ سید عتیق پاشاہ کے اختتامی کلمات سے کانفرنس کا اختتام عمل میں آیا۔
