لکھنؤ: وکیل وجے مشرا جو مقتول گینگسٹرسیاستدان عتیق احمد کی نمائندگی کر رہے تھے کو امیش پال قتل کیس کے سلسلے میں پریاگ راج پولیس نے گرفتار کر لیا ۔پولیس نے بتایا کہ لکھنؤ کے ہوٹل حیات لیگیسی کے باہر سے انہیں گرفتار کیا گیا۔مشرا پر 24 فروری کو دو پولیس عہدیداروں کے قتل سے پہلے پریاگ راج عدالت سے امیش پال کے مقام کو شیئر کرنے کا الزام تھا۔ اسے تعزیرات ہند (آئی پی سی)، دھماکہ خیز مواد ایکٹ، فوجداری قانون ترمیمی ایکٹ، اورایس ٹی ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔امیش پال اور ان کی سیکوریٹی میں تعینات دو پولیس عہدیداروں کو اس سال 24 فروری کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ اومیش بی ایس پی ایم ایل اے راجو پال قتل کیس کا اہم گواہ تھا۔ مقدمہ میں نامزد کلیدی ملزم عتیق احمد اور ان کے بھائی اشرف کو 15 اپریل 2023 کو تین نوجوانوں نے ہاسپٹل کے باہر اس وقت گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا جب پولیس انہیں طبی معائنے کیلئے لے جا رہی تھی۔گزشتہ ماہ پولیس نے امیش پال قتل کیس میں آٹھ ملزمین کے خلاف چارج شیٹ داخل کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ چارج شیٹ میں احمد، راکیش عرف نکیش عرف لالہ، ارشد کٹرا، نیاز احمد، اقبال احمد، شاہ رخ، اخلاق احمد اور خان صولت حنیف کا بطور ملزم ذکر کیا گیا ہے۔ مشرا ہفتہ وصولی(بھتہ خوری )کے ایک کیس میں بھی مطلوب تھا۔ اس پر 21 مئی کو پریاگ راج ضلع میں پلائیووڈ کے ایک تاجر سے مبینہ طور پر 3 کروڑ بھتہ طلب کرنے کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
پریاگ راج کے اٹارسویا پولیس اسٹیشن میں درج کرائی گئی شکایت میںتاجر، سعید احمدجو دریا آباد کے رہنے والے ہیں اور متھی گنج علاقے میں ایک دکان کے مالک ہیں نے الزام لگایا ہے کہ مشرا نے اس سے 1.20 لاکھ روپے کا سامان کریڈٹ پر خریدا تھا لیکن اس نے اپنے واجبات ادا کرنے سے انکار کردیا۔شکایت کنندہ کے مطابق 20 اپریل کو مشرا نے سعید کو ڈائل کیا اور عتیق اور اس کے ساتھیوں کے نام 3 کروڑ روپے کا مطالبہ کیا۔دریں اثنا، مشرا نے غلط کام کے تمام الزامات کی تردید کی ہے اور کہا ایف آئی آر میری شبیہ کو خراب کرنے اور میری ساکھ کو نقصان پہنچانے کی سازش کے تحت مجھ پر مکمل طور پر جھوٹے الزامات لگاتی ہے۔
