فضائی خدمات پر معمولی تحدیدات سے مسافرین کو مشکلات
حیدرآباد۔30نومبر(سیاست نیوز) کورونا کی نئی قسم کے منظرعام پر آنے کے بعد دنیا بھر میں سیاحت کو خطرناک صورتحال کا سامنا ہوسکتا ہے ۔ ماہرین کے مطابق 2021 میں سیاحت کو 2ٹریلین ڈالر خسارہ کا خدشہ ہے۔ دنیا میں کورونا کی دہشت کم ہونے کے بعد تمام ممالک فضائی خدمات کی بحالی کر رہے تھے اور کہا جا رہا تھا کہ جلد ہی سیاحت کے حالات بہتر ہونگے لیکن اب جبکہ اومی کرون کی نئی قسم منظر عام پر آئی تو پھر سیاحت میں خسارہ کے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق دنیا میں فضائیہ کو 2020 میں 2ٹریلین کا نقصان ہوا اور جاریہ سال بھی اتنا ہی نقصان ہوسکتا ہے ۔ وائرس کی نئی قسم کے بعد 55 ممالک نے فضائی حدود جزوی بند کرنے کا فیصلہ کیا ۔بتایاجاتا ہے کہ ماقبل کورونا اور لاک ڈاؤن عالمی جی ڈی پی میں 10 فیصد حصہ شعبہ سیاحت کا ہواکرتا تھا لیکن کورونا کے بعد سے صورتحال یکسر تبدیل ہوچکی ہے اور اس میں گراوٹ آئی ہے۔ذرائع کے مطابق تمام سرکردہ ممالک عالمی ادارۂ صحت کی ہدایات پر گہری نظررکھے ہوئے ہیں اور کہا جا رہاہے کہ آئندہ دو ہفتوں کے دوران کورونا وائرس کی اس نئی قسم کے متعلق تفصیلات حاصل ہونے اور تحقیق منظر عام پر آنے تک خوف و ہراس کا ماحول برقرار رہنے کا امکان ہے۔ایسے ممالک جہاں دنیا کے دیگر ممالک کو جوڑنے پروازیں چلائی جاتی ہیں ان ائیر پورٹس پر مسافرین پریشان ہیںکیونکہ کئی ممالک میں اچانک سرحدوں کو بند کرنے کے فیصلہ کی وجہ سے وہ اپنی منزل مقصد تک نہیں پہنچ پا رہے ہیں۔م