کورونا کا نیا ویریئنٹ دنیا کے 53 ممالک میں پھیل گیا
حیدرآباد۔9۔ڈسمبر(سیاست نیوز) کورونا وائر س کی نئی قسم دنیا بھر میں مریضوں کی تعداد میں اضافہ کا سبب بن سکتی ہے اور کورونا وائرس کی نئی لہر کا سامنا دنیا کو کرنا پڑسکتا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کی جانب سے جاری کئے گئے نئے انتباہ میں کہا گیا ہے کہ کورونا وائرس کی نئی قسم اومی کرون دنیا بھر میں وبائی امراض کا رخ بدل سکتی ہے اور اس صورتحال کے سبب دنیا بھر میں حالات مزید ابتر ہونے کا خدشہ پیدا ہونے لگا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کی جانب سے جاری کئے جانے والے اس انتباہ کے بعد اب کہا جا رہاہے کہ اومی کرون کے مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ دیکھا جارہاہے اور ابتدائی کورونا وائر س کی توثیق کے بعد جس رفتار سے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا تھا اس سے تیز رفتار کے ساتھ اومی کرون کے مریضوں میں اضافہ دیکھا جا رہاہے۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق اومی کرون فی الحال دنیا کے 53 ممالک میں پہنچ چکا ہے اور دنیا بھر کے 53ممالک میں اموی کرون کے مریضوں میں اضافہ کی رفتار کا جائزہ لیا جا رہاہے۔ذرائع کے مطابق جنوبی افریقہ میں کورونا وائرس کی اس نئی قسم کی نشاندہی سے قبل کن ممالک میں یہ قسم پائی گئی ہے اس کی جانچ کی جا رہی ہے تاکہ اس بات کا پتہ چلایا جاسکے کہ وائرس کی اس نئی قسم میں زیادہ تیز رفتاری سے پھیلنے کی صلاحیت کی وجوہات کیا ہیں!ماہر سائنسدانوں کا کہناہے کہ عالمی ادارۂ صحت کی جانب سے 2019 میں کورونا وائرس کی نشاندہی اور اسے متعدی قرار دیئے جانے کے باوجود بیشتر ممالک کی جانب سے انتباہ کو نظر انداز کیا گیا تھا اور چین کے جس مقام پر وائرس نے سب سے زیادہ اثر کیا تھا اس علاقہ تک چین کی جانب سے رسائی فراہم نہ کرنے کے علاوہ خبروں کو پوشیدہ رکھنے کی کوشش کی جار ہی تھی۔عالمی ادارۂ صحت کے سائنسدانوں کا کہناہے کہ کورونا وائرس کی اس نئی قسم پر ٹیکہ کے اثرات کا باریکی سے جائزہ لینے کے اقدامات کو تیز کیا جانا چاہئے تاکہ اومی کرون کے پھیلنے کے باوجود شہریوں کی قوت مدافعت کو کسی قسم کا کوئی نقصان نہ ہو۔