اوم برلا کیخلاف تحریکِ عدم اعتماد کو فہرست میں شامل کر لیا گیا

   

نئی دہلی، 9 مارچ (یو این آئی) لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کو ایوان کی نظرِ ثانی شدہ فہرست کارروائی میں شامل کر لیا گیا ہے ۔فہرستِ کارروائی کے مطابق، وقفہ سوالات کے بعد اور ضروری دستاویزات ایوان کی میز پر رکھے جانے کے فوراً بعد، سب سے پہلے وزیر خارجہ ایس جے شنکر مغربی ایشیا کی صورتحال پر ایک بیان دیں گے ۔ اس کے بعد کانگریس کے ارکانِ پارلیمنٹ ڈاکٹر آر محمد جاوید، کوڈی کنل سریش اور ملو روی، جناب برلا کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد پیش کرنے کی ایوان سے اجازت طلب کریں گے ۔ اگر ایوان کی جانب سے اجازت مل جاتی ہے ، تو کل ہی اس تحریک کو باضابطہ طور پر لوک سبھا میں رکھا جا سکتا ہے ۔ اپوزیشن کی جانب سے لائی گئی اس تحریک میں اسپیکر پر انتہائی سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں، جن میں اسپیکر پر اپوزیشن کے ارکان کے ساتھ امتیازی سلوک کرنے اور انہیں ایوان میں بولنے کا موقع نہ دینے کا الزام ہے ۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ اسپیکر نے غیر جانبدارانہ رویہ ترک کر دیا ہے اور وہ کھلے طور پر حکمران جماعت کا ساتھ دیتے ہیں۔
عوامی مسائل اٹھانے پر اپوزیشن ارکان کو پورے سیشن کے لیے معطل کرنا اور اپوزیشن کی آواز دبانا۔ اقتدار میں شامل ارکان کی جانب سے سابق وزرائے اعظم کے خلاف نازیبا تبصرے اور خواتین ارکان پر الزامات کے باوجود کسی قسم کی کارروائی نہ کرنا شامل ہیں۔
“یہ ایوان، اسپیکر کے اس رویے کو مدنظر رکھتے ہوئے ، جس میں اپوزیشن کے حقوق کی پامالی اور ایوان کے وقار کو نقصان پہنچانا شامل ہے ، انہیں عہدے سے ہٹانے کی تجویز پیش کرتا ہے ۔”