اونٹ واڑی قبرستان میں گھوڑے باندھ کر قبروں کی بے حرمتی کی کوشش ناکام

   

صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم کی کارروائی، گھوڑوں کی منتقلی اور قابضین کے خلاف پولیس کیس درج
حیدرآباد۔ 30 ستمبر (سیاست نیوز) جمعرات بازار کے اونٹ واڑی قبرستان میں بعض مقامی افراد کی جانب سے قبور کی توہین اور جانوروں کو باندھنے کی اطلاعات پر صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ٹاسک فورس ٹیم کو روانہ کیا اور قبرستان کا تحفظ کیا گیا۔ اونٹ واڑی قبرستان میں مقامی افراد کی جانب سے گھوڑے باندھنے کی شکایات عام ہیں۔ اس سلسلہ میں سابق میں صدرنشین وقف بورڈ نے کارروائی کرتے ہوئے پولیس کی مدد سے اونٹوں اور گھوڑوں کو دوسرے مقام منتقل کردیا تھا۔ مقامی افراد پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی گئی تاکہ قبرستان کے تحفظ اور قبروں کی مسماری کو روکا جاسکے۔ بتایا جاتا ہے کہ کمیٹی فرائض کی تکمیل میں ناکام ہوگئی اور دوبارہ گھوڑے قبرستان میں باندھ دیئے گئے۔ قبروں کے اوپر گھوڑوں کو باندھنے سے سارے قبرستان میں گندگی پھیل گئی اور کئی قبور کو نقصان پہنچا۔ اطلاع ملتے ہی صدرنشین وقف بورڈ نے عہدیداروں کی ٹیم کو روانہ کیا جس نے متعلقہ پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی ہے۔ صدرنشین نے ہدایت دی کہ قبرستان کی صفائی کرتے ہوئے حصاربندی اور نئی گیٹ نصب کی جائے تاکہ دوبارہ مداخلت کا موقع نہ ملے۔ انہوں نے کہا کہ گھوڑوں اور اونٹوں کے مالکین کو ایک سے زائد مرتبہ وارننگ دی جاچکی ہے اس کے باوجود ان کا رویہ تبدیل نہیں ہوا۔ محمد سلیم نے کہا کہ کمیٹی کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے اگر کمیٹی کی سطح پر کوتاہی پائی گئی تو کمیٹی کو برخاست کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقفے وقفے سے قبرستان کی بے حرمتی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ گھوڑے اور اونٹوں کو کسی اور مقام پر باندھنے کے لیے پولیس کے ذریعہ بھی ہدایت دی گئی تھی۔ محمد سلیم نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر نئی کمیٹی تشکیل دی جائے گی اور قبرستان کی حصاربندی ہوگی۔ اسی دوران انہوں نے عیدگاہ گٹلا بیگم پیٹ میں غیر مجاز تعمیرات کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے تعمیری کاموں کو روک دیا ہے۔ عدالت میں مقدمہ کے باوجود عیدگاہ گٹلا بیگم پیٹ میں اوقافی اراضی پر تعمیری کاموں کا سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر مجاز قابضین کے خلاف پولیس میں دوبارہ شکایت کی جائے گی۔ اسی دوران گریٹر حیدرآباد کے حدود سے تعلق رکھنے والے وقف انسپکٹرس آڈیٹرس کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ روزانہ وقف بورڈ پہنچ کر رپورٹ کریں اس کے بعد ہی اپنے علاقوں کو روانہ ہوں۔ عام طور پر شکایت مل رہی تھیں کہ وقف انسپکٹرس اپنے فرائض کی تکمیل میں کوتاہی کررہے ہیں اور ان پر کوئی نگرانی نہیں ہے۔ وقف انسپکٹرس کو جوابدہ بنانے کے لیے روزانہ رپورٹ کرنے کی شرط عائد کی گئی ہے۔ وہ جہاں کہیں بھی جائیں اس کی اطلاع وقف بورڈ کو دی جائے۔