غریب و متوسط خاندانوں کو راحت، سماجی تنظیموں کی توجہ دہانی پر ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرمارکا کا اقدام
حیدرآباد ۔ 30 ۔ اکتوبر (سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرمارکا کی مساعی پر 2022 سے آج تک کے اوورسیز اسکالرشپ اسکیم کے تمام بقایا جات جاری کردیئے گئے ۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے مختلف طبقات کی مسلسل نمائندگی پر ڈپٹی چیف منسٹر کو ہدایت دی تھی کہ وہ اوور سیز اسکالرشپ اور فیس باز ادائیگی اسکیمات کے بقایا جات کی اجرائی کو یقینی بنائیں۔ بھٹی وکرمارکا نے محکمہ فینانس کے عہدیداروں کے ساتھ اجلاس میں زیر التواء اوورسیز اسکالرشپ کا جائزہ لیا ۔ عہدیداروں نے بتایا کہ سابق بی آر ایس حکومت نے 2022 سے اوورسیز اسکالرشپ کی رقم جاری نہیں کی ہے۔ ایس سی ، ایس ٹی ، بی سی ، او سی اور اقلیتی طلبہ کے زیر التواء اسکالرشپ کی اجرائی کیلئے فوری طور پر 303 کروڑ جاری کئے گئے۔ بھٹی وکرمارکا کی ہدایت کے فوری بعد اسکالرشپ کی رقم امیدواروں کے بینک اکاؤنٹس میں جمع کردی گئی ۔ حکومت کے اس فیصلہ سے غریب اور متوسط طبقات کے امیدواروں کو راحت ملی ہے جو گزشتہ تین برسوں سے رقم کی اجرائی کا انتظار کر رہے تھے ۔ والدین نے اسکیم کی منظوری کے بعد سود پر قرض حاصل کرکے بچوں کو بیرون ملک تعلیم کیلئے روانہ کردیا تھا اور وہ سود ادا کرنے پر مجبور تھے۔ مختلف سماجی تنظیموں نے طلبہ اور اولیائے طلباء کی دشواریوں سے چیف منسٹر کو واقف کرایا جس پر انہوں نے بقایہ جات کے ساتھ جاریہ سال کی رقومات جاری کرنے کی ہدایت دی۔ کئی طلبہ تعلیم کی تکمیل کے باوجود اسکالرشپ کی رقم سے محروم تھے ۔ امریکہ اور دیگر ممالک میں طلبہ کو تعلیم کے حصول کے ساتھ ملازمت کے سلسلہ میں کئی پابندیوں کا سامنا ہے جس کے نتیجہ میں طلبہ اپنی تعلیمی فیس ادا کرنے میں دشواری محسوس کر رہے تھے۔ بھٹی وکرمارکا نے حالات سے واقفیت کے بعد فوری طور پر 303 کروڑ کی اجرائی کی ہدایت دی۔ بتایا جاتاہے کہ حکومت آئندہ تعلیمی سال سے اسکالر شپ سے متعلق اسکیمات کے رہنما خطوط تبدیل کرنے پر غور کر رہی ہے تاکہ کالجس کی جانب سے فنڈس کے بیجا استعمال کو روکا جاسکے۔1