محکمہ فینانس نے اچانک رقم منجمد کردی، لاکھوں طلبہ کو پریشانی کا سامنا
حیدرآباد29 ۔جولائی (سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت میں دلتوںکیلئے دلت بندھو اسکیم کا اعلان کیا لیکن حکومت کے پاس بیرونی ممالک میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کی فیس ادا کرنے فنڈس نہیں ہے ۔ بیرونی یونیورسٹیز میں تعلیم کے خواہاں طلبہ کو اوورسیز اسکالر اسکیم کے تحت 20 لاکھ روپئے کی امداد فراہم کی جاتی ہے ۔ گزشتہ تین برسوں سے یہ اسکیم تعطل کا شکار ہے۔ ایس سی ، ایس ٹی ، بی سی ، اقلیت اور معاشی طور پر پسماندہ طلبہ بیرونی یونیورسٹیز میں داخلہ پانے کے باوجود حکومت کی امداد سے محرومی کے نتیجہ میں داخلہ کو خطرہ محسوس کر رہے ہیں ۔ کئی طلبہ نے قرض حاصل کرکے فیس ادا کی ہے لیکن حکومت سے تعلیمی امداد کی اجرائی کے امکانات موہوم دکھائی دے رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ محکمہ فینانس نے 3816 کروڑ روپئے کو جو فیس ری ایمبرسمنٹ بقایہ جات ہیں منجمد کردیا ہے۔ ریاست میں کمزور معاشی حالات کا بہانہ بناکر یہ رقم روک دی گئی جس سے 12 لاکھ سے زائد طلبہ متاثر ہوسکتے ہیں۔ فیس بازادائیگی اور اوورسیز اسکالرشپ دونوں اسکیمات کے فنڈس کی عدم اجرائی نے طلبہ اور اولیائے طلبہ کی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے ۔ اعلیٰ تعلیم کے حصول کیلئے فیس باز ادائیگی اسکیم غریب طلبہ کیلئے کسی نعمت سے کم نہیں تھی ۔ ایس سی ، ایس ٹی ، بی سی اور اقلیتی طبقات کے محکمہ جات نے فنڈس کی اجرائی کیلئے محکمہ فینانس سے بارہا نمائندگی کی لیکن کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا ہے ۔ بتایاجاتا ہیکہ کالجس کا انتظامیہ طلبہ کو فیس ادا کرنے اصرار کر رہا ہے ۔ گزشتہ تین برسوں سے اسکیم پر عمل آوری نہیں کی گئی جس پر کالجس نے طلبہ کے اسنادات روک لئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق محکمہ فینانس نے 2019-20 ء کے بقایہ جات کے طور پر 1500 کروڑ کی اجرائی کا فیصلہ کیا تھا لیکن لمحہ آخر میں یہ رقم روک لی گئی ۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ حکومت نے صرف شدید ضرورت پر فنڈس جاری کرنے کی ہدایت دی ہے۔ فیس بازادائیگی اسکیم کی رقومات کی عدم اجرائی سے انجنیئرنگ طلبہ زیادہ متاثر ہیں۔ طلبہ و اولیائے طلبہ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اوورسیز اسکالر شپ اور فیس ری ایمبرسمنٹ کے بقایہ جات فی الفور جاری کریں۔
