اوورسیز اسکالر شپ اسکیم …حکومت شاید تمام طبقات کو یکساں مواقع کی قائل نہیں !

   

Ferty9 Clinic

دلتوں کے مقابل اقلیتی طلباء کو کئی مشکلات کا سامنا

حیدرآباد۔16۔اگسٹ(سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ کی اوورسیز اسکالر شپ اسکیم میں درخواستوں کے ادخال کے معاملہ میں دلتوں اور اقلیتوں کے درمیان رکھے گئے فرق سے اندازہ ہوتا ہے کہ ریاستی حکومت تمام طبقات کو ایک نظر سے دیکھنے کی قائل نہیں ہے۔ ریاستی حکومت کی جانب سے دلتوں کے لئے جاری کی جانے والی اوور سیز اسکالر شپ اسکیم’ امبیڈکر اوورسیز ودیا ندھی ‘ میں درخواست داخل کرنے کے لئے کوئی تاریخ یا مدت نہیں ہے جبکہ اقلیتی طلبہ کے لئے جاری اسکیم چیف منسٹر اوور سیز اسکالر شپ اسکیم کے لئے درخواست داخل کرنے والے طلبہ کو حکومت اور محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے درخواستوں کے ادخال کے سلسلہ میں پورٹل کے کھلنے کا انتظار کرنا پڑتا ہے ۔ اقلیتی طلبہ جو بیرونی ممالک کی جامعات میں داخلہ حاصل کرنے کے بعد روانہ ہوجاتے ہیں انہیں آن لائن پورٹل کھلنے کے بعد کئی مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ دلت طلبہ کو اس طرح کے کسی مسائل کا سامنا نہیں ہوتا بلکہ جیسے ہی ان کا کسی بیرونی جامعہ میں داخلہ ہوتا ہے اور اس ملک کا ویزاحاصل ہوتا ہے وہ اپنی اسکالرشپ کے تمام امور کو مکمل کرنے کے بعد روانہ ہوتے ہیں جنہیں کسی بھی طرح کے مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑتا اس کے برعکس اقلیتی طلبہ جو بیرونی جامعات میں داخلہ حاصل کرتے ہیں ان طلبہ کو اپنے تمام تر دستاویزات اپنے والدین کے پاس رکھوانے پڑتے ہیں اور وہ اپنے جانے سے قبل اگر کوئی سند یا دستاویز رکھوانا بھول جاتے ہیں تو انہیں کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ریاستی حکومت کو اس سلسلہ میں متوجہ کروائے جانے کے باوجود ریاستی حکومت نے محکمہ اقلیتی بہبود کے ذریعہ سال بھر ان درخواستوں کے ادخال کی سہولتوں کی فراہمی کے متعلق کوئی احکام جاری نہیں کئے جبکہ ایس سی اور ایس ٹی طبقات کے طلبہ کی طرح سال بھر اقلیتی طلبہ کی درخواستوں کی وصولی کے احکام کی اجرائی کے لئے ریاستی حکومت کو صرف تحریری احکام جاری کرنے ہیں اس کے لئے حکومت پر کوئی مالی بوجھ عائد ہونے والا نہیں ہے لیکن اس کے باوجود اس مسئلہ کو مکمل طور پر حکومت کی جانب سے نظرانداز کرتے ہوئے اقلیتوں کے مسائل کو حل کرنے سے گریز کیا جار ہاہے ۔محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کا کہناہے کہ اگر ریاستی حکومت اس سلسلہ میں تحریری احکام جاری کرتی ہے تو ایسی صورت میں تلنگانہ ای۔پاس کو ان احکامات کا حوالہ دیتے ہوئے سال بھر اسکالر شپ کے پورٹل کو کھلا رکھنے کے اقدامات کئے جاسکتے ہیں۔م