اوٹکور۔ 14 جنوری (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) مومنٹ فار پیس اینڈ جسٹس (MPJ) اوٹکور کی جانب سے ایک خطاب عام جامع مسجد پنچ ہال میں منعقد ہوا جس میں اوٹکور کے تمام مسالک اور مقامی مساجد کے ذمہ داران اور دیگر تنظیموں کے نمائندوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ جس میں الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے شروع کی گئی خصوصی نظرثانی Special Intensive Revision(SIR) مہم پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے صدارتی خطاب سے عبدالمجید شعیب نے کہا کہ SIR دراصل شہریوں کو ان کے دستوری حقوق خصوصاً حق رائے دہی سے محروم کرنے کی ایک منظم اور خطرناک سازش ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ SIR کے سماجی و سیاسی اثرات نہایت سنگین ہوں گے اور اس مشق کے ذریعہ بالخصوص اقلیتوں ، دلتوں ، آدی واسیوں اور خواتین کو ووٹ کے حق سے محروم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ انتخابات سے قبل ووٹر لسٹ نظرثانی کرنا نیا عمل نہیں لیکن اس بار الیکشن کمیشن شہریوں سے جن غیرضروری اور پیچیدہ دستاویزات کا مطالبہ کررہا ہے، اس سے عوام میں تشویش پائی جاتی ہے۔ ماضی میں ووٹر لسٹ میں نام کے اندراج کیلئے صرف ہندوستانی شہریت اور 18 سال عمر کافی تھی۔ 2004ء کے بعد پیدا ہونے والے افراد سے والدین کے برتھ سرٹیفکیٹس تک طلب کئے جارہے ہیں۔ ابتداء میں آدھار کارڈ، راشن کارڈ اور ووٹر آئی ڈی کو ثبوت ماننے سے انکار کیا گیا جسے سپریم کورٹ کی ہدایت کے بعد قبول کیا جارہا ہے۔ اجلاس کا آغاز منظور احمد گنتہ کی قرأت کلام پاک سے ہوا۔ اختتامی کلمات ناظم ضلع منصور علی گڈا جماعت اسلامی نے پیش کئے۔ اجلاس کی کارروائی امیر مقامی جاوید امر جنتہ نے چلائی۔ محمد کاظم حسین رنگریز صدر ضلع MPJ نے ضلعی سطح پر رپورٹ پیش کی۔
