اوپیک پلس کیساتھ تعاون ،تیل منڈیاں مستحکم ہونگی : سعودی عرب

   

ریاض : سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ توانائی کے شعبے میں عرب ملکوں کے ساتھ تعاون سعودی عرب کی عرب گہرائیوں میں دلچسپی کا ایک لازمی حصہ ہے۔سعودی پریس ایجنسی کو ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ یہ تعاون مشترکہ عرب ایکشن اور بہت سے منصوبوں، پروگراموں اور اقدامات کے ساتھ مربوط ہے۔سعودی توانائی کے وزیر نے بین الاقوامی سطح پر اوپیک ملکوں کے ساتھ سعودی عرب کی ہم آہنگی کے وجود کی تصدیق کی اور کہا کہ یہ وہ ممالک ہیں جن میں اوپیک اور متعدد عرب ملکوں سمیت باہر سے تیل پیدا کرنے والے ممالک شامل ہیں۔اوپیک پلس ملکوں کے ساتھ ہم آہنگی تیل کی عالمی منڈیوں کے استحکام کو بڑھانے اور ان کے توازن کو برقرار رکھنے اور تیل کی سپلائی کو تحفظ فراہم کرنے کی کوششوں کا سنگ بنیاد ہے۔انہوں نے وضاحت کی کہ سعودی عرب نے توانائی کے شعبے میں متعدد عرب ملکوں کے ساتھ مفاہمت کی متعدد یادداشتوں پر دستخط کیے ہیں۔ ان ملکوں میں مصر، سلطنت عمان، اردن اور عراق شامل ہیں۔ اس کا مقصد بجلی اور قابل تجدید توانائی کے شعبوں میں تعاون کو بڑھانا ہے۔ ان شعبوں میں صاف ہائیڈروجن، تیل اور گیس، پیٹرو کیمیکل اور دیگر متعلقہ شعبے شامل ہیں۔انہوں نے توجہ دلائی کہ سعودی عرب اور عرب ممالک کے درمیان برقی رابطوں کے منصوبے بھی ہیں کیونکہ مملکت خلیجی ریاستوں اور خلیجی ملکوں سے جڑی ہوئی ہے۔ سعودی عرب اور عراق، اردن اور مصر کے درمیان بھی براہ راست انٹر کنکشن کے منصوبے چل رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان منصوبوں کا مقصد آپس میں جڑے ہوئے قومی نیٹ ورکس کی حفاظت، ان کی کارکردگی کو بڑھانا، قابل تجدید توانائی کے منصوبوں کے اندراج کو جذب کرنے کی صلاحیت کو بڑھانا اور برقی توانائی کے تبادلے اور گزرنے کیلئے ایک علاقائی تجارتی منڈی تشکیل دینا ہے۔
توانائی کے وزیر نے تصدیق کی کہ برادر عرب ممالک کے ساتھ ہم آہنگی اور تعاون کے حوالے سے سعودی عرب مسلسل رابطوں میں ہے۔انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ جدہ میں منعقد ہونے والی عرب سربراہی کانفرنس تمام شعبوں میں عرب ملکوں کے درمیان تعاون، انضمام اور ہم آہنگی کیلئے ایک موثر آغاز کا موقع فراہم کرے گی۔